<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے..معافی اور عافیت کا سؤال ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ھوکر ارشاد فرمایا: اللہ تعالی سے معافی اور عافیت کا سؤال کرتے رہو، اس لئے کہ کسی بھی شخص کو ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی نعمت نہیں عطاء کی گئی (ترمذی)..ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے افراد پر ھوا جو مصیبت میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا یہ لوگ اللہ تعالی سے عافیت کی دعاء نہیں کرتے تھے؟..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بار بار تاکید فرمائی کہ اے چچا جان آپ ”عافیت“ کی دعاء بہت کثرت سے مانگتے رھا کریں..”عفو“ یعنی ”معافی“..اور ”عافیت“ یعنی ہر آفت و مصیبت سے سلامتی..یہ دو چیزیں ھمارے لئے دنیا و آخرت میں بے حد، بے حد ضروری ھیں..اس لئے ھمیں ان کو بار بار مانگنے اور زیادہ مانگنے کا حکم فرمایا گیا ہے..اللهم اني اسالك العفو والعافية والمعافاة في الدنيا والآخره..کسی مسلمان کو اللہ تعالی کے عذاب پر جری نہیں ھونا چاھئے..اور عافیت کی دعاء سے کبھی غافل نہیں ھونا چاھئے..قبولیت کے اوقات جیسے اذان و اقامت کے وقت اور درمیان..جمعہ کے دن عصر کے بعد..ہر صبح شام..ہر فرض نماز کے بعد..دعاء عافیت کو اپنا پکا معمول بنائیں..سجدے اور التحیات کے آخر میں بھی مانگا کریں..مسلمانوں کو بھی اس کی ترغیب دیں..عافیت کی سب سے جامع دعاء وہ ہے جو تازہ مضمون میں بیان کی گئی ہے..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم..
لا اله الا الله محمد رسول الله