<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے..اپنے بندوں کو ایک بات سمجھائی ہے..وہ یہ کہ..اس دنیا میں زندگی بھی ایک حقیقت ہے..اور موت بھی ایک حقیقت ہے..یعنی موت زندگی کے خاتمے کا نام نہیں ہے..یہ مستقل ایک مخلوق ہے..جس سے ضرور ہماری ملاقات ہونی ہے..اور اس ملاقات سے آگے کا سفر شروع ہونا ہے..”الذي خلق الموت والحياة“..اس لئے موت سے بھاگنا اچھا نہیں..اور موت سے بھاگنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں..قرآن مجید..سورہ بقرہ میں ان لوگوں کا قصہ مذکور ہے..جو موت سے بھاگے مگر سارے مارے گئے..حضرت اقدس شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالی اس قصہ پر لکھتے ہیں..”یہ (واقعہ) پہلی امت (یعنی بنی اسرائیل) میں ہوا ہے کہ کئی ہزار شخص گھر بار لے کر اپنے وطن کو چھوڑ نکلے..ان کو ڈر ہوا غنیم (یعنی دشمن) کا اور لڑنے سے جی چھپایا یا ڈر ہوا ”وباء“ کا اور یقین نہ ہوا تقدیر کا..پھر ایک منزل میں پہنچ کر سارے مرگئے (موضح قرآن)..خوف، ڈر اور وھم بہت بری بلاء ہے..اسکی وجہ سے ”مسجد“ نہ چھوڑیں ڈٹ کر جائیں..جم کر جائیں..وھاں خوب وقت گزاریں..احتیاطی تدابیر اختیار کریں مگر شریعت کی حدود میں..دل سے خوف نکالیں گے تو..حسبنا اللہ و نعم الوکیل..کام کرے گا..احتیاطی تدابیر کا تذکرہ کسی اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله