<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی..کعبہ شریف، مسجد نبوی، مسجد اقصی..اور روئے زمین کی تمام مساجد کو..آباد فرمائیں..”مسجد“ کا مطلب..سجدے کی جگہ..سجدہ اللہ تعالی سے قرب کا مقام..بندہ اللہ تعالی سے سب سے زیادہ قریب..سجدے میں ہوتا ہے..معلوم ہوا کہ..مسجد اللہ تعالی کے قرب کا مقام..مسلمانوں کی ”اجتماعیت“ کا راز..مسجد آباد تو دل آباد..دل آباد تو سب کچھ آباد..”کرونا وائرس“ مساجد سے بہت دور ہے..بہت دور..یہ عذاب اللہ تعالی نے..اور لوگوں پر مسلط فرمایا..انہوں نے اپنے دل کا بغض نکالنے کے لئے..مساجد کو اسمیں خواہ مخواہ شامل کرلیا..کہتے ھیں کہ نواب، خان اور چوہدری کو درد اٹھے اور وہ چیخےتو..اس کے نوکر، ملازم اور غلام بھی..اسی کی طرح درد کی آوازیں نکالتے ھیں..اچھا ایک لفظ یاد کرلیں..”ایام اللہ“ اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے خاص دن..جنمیں کوئی ایسا عذاب اترتا ہے جو قوموں اور زمینوں کا نقشہ ہی بدل ڈالتا ہے..یا کوئی ایسی نعمت اترتی ہے جس کی روشنی چار سو پھیل جاتی ہے..قرآن مجید کا ایک مستقل مضمون اور موضوع ”ایام اللہ“ ہے..ھم نے ایسا ہی ایک دن..گیارہ ستمبر دیکھا تھا..جو نائن الیون کے نام سے مشہور ھوا..اور اب..یوم کرونا..شاید فروری کی کوئی تاریخ تھی..جب یہ ”چھوٹو پہلوان“..زمین پر اترا..نائن الیون کے اثرات بیس سال تک چنگھاڑتے رہے..مگر آج وہ کسی کو یاد نہیں..اب کرونا ہی کرونا ہے..اس موضوع کی تفصیل پھر کبھی ان شاء اللہ..آج خوب جم کر مساجد کے لئے دعاء فرمائیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله