مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے آخرت میں..ایمان والوں کے لئے..جو جنت ”بنائی“
ہے..وہ ھماری سوچ سے بہت اونچی اور بہت دور ہے..”جنت“ پر ایمان لانا ”فرض“ ہے..”جنت“
کا انکار کرنا ”کفر“ ہے..مگر اس دنیا میں رھتے ھوئے ”جنت“ کی کیفیت کو سمجھنا ناممکن
ہے، محال ہے..انسان کی سوچ تو اتنی محدود ہے کہ وہ..دو سو سال بعد کے حالات کو نہیں
سمجھ سکتا..پھر اتنی دور، اتنی اونچی جنت کو کیسے سمجھے گا؟..آج کی انسانی ایجادات
کا تصور بھی..چند سو سال پہلے نہیں تھا..اس زمانے کے کسی انسان کو آج کی ایجادات سمجھائی
جاتیں تو وہ حیرت میں ڈوب جاتا یا انکار کر دیتا..جنت تو بہت آگے ہے..مگر ظلم دیکھیں
کہ آجکل جنت والی ”قرآنی آیات“ سنا کر ساتھ (نعوذباللہ) خیالی جنت بنا دی جاتی ہے..پھول،
چشمے، پہاڑ، سبزہ وغیرہ..ایسی ویڈیو بنانا اور اسے آگے پھیلانا ناجائز ہے..انسان کے
پاس جو سب سے بڑی پروازی طاقت ہے وہ ہے ”تخیل“ یعنی خیال کی قوت..اس قوت کے ذریعے انسان
جو چاھے سوچ لیتا ہے مگر فرمادیا گیا کہ..جنت کو سوچ بھی نہیں سکتا..اسکی قوت خیال
ان عظیم اور دائمی نعمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے..ان نعمتوں کے لئے اللہ تعالی ھمیں
الگ دماغ عطاء فرمائیں گے..طاقتور اور پاورفل..دماغ کی وہ طاقت ملنے سے پہلے اللہ کے
لئے..جنت اور حوروں کے نقشے نہ بنائیں..اور نہ دنیا کی کسی چیز کو ”جنت نظیر“ قرار
دیں..ایمان بالغیب لائیں..ایمان بالغیب..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله