مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے فیصلہ سنا دیا..ارشاد فرمایا "یقینا
وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں ”خشوع“ کرتے ہیں"..”خشوع“ یعنی
اللہ تعالی سے ڈرنا..اللہ تعالی سے دبنا..یہ وہ نعمت ہے جو اس امت میں سے سب سے پہلے
اٹھالی جائے گی..فرمایا کہ تم مسجد میں جاؤگے تو وھاں ایک آدمی کو بھی ”خشوع“ سے نماز
پڑھتا ہوا نہ پاؤگے (ترمذی)..نماز کی برکت سے دل کو جو سکون ملتا ہے..چہروں کو جو نور
ملتا ہے..نفس کو جو تقوی ملتا ہے..اور نامۂ اعمال میں جو اجر لکھا جاتا ہے..اس کا بڑا
تعلق ”خشوع“ سے ہے..ھم جب کسی بہت بارعب، محبوب اور بڑی شخصیت کے سامنے ہوتے ھیں تو
کسطرح سے ”دب“ جاتے ھیں..باادب ھو جاتے ھیں..بس اسی سے بغیر تشبیہ..خشوع کا معنی سمجھ
لیں..اللہ تعالی کی عظمت کا ایسا خیال کہ..پھر دائیں بائیں کا خیال نہ رہے..مکمل باادب..نہ
آنکھیں ادھر ادھر بھٹکیں..نہ ہاتھوں سے داڑھی یا جسم کی رگڑائی کریں..اور نہ دل کسی
اور خیال میں مشغول ھو..ھم سب اسکی ضرور فکر کریں..اور اسے معمولی بات نہ سمجھیں..کیونکہ
”خشوع“ ایمان والوں کی صفت ہے..اور یہ مقبول نماز کا حصہ ہے..اس لئے ضروری ہے کہ..
1)
ھم خشوع کو سمجھیں..
2)
ھم مسلسل دعاء مانگیں کہ یا اللہ ھمیں یہ نعمت نصیب فرمائیے..
3)
ھم اللہ تعالی کی عظمت اور بڑائی کو یاد کریں..ھم حقیر سے
ذرے اور وہ عظیم مالک الملک..
4)
ھم نماز میں ہاتھ بالکل نہ ہلائیں، آنکھیں نہ گھمائیں اور
دل کو متوجہ رکھیں..
5)
ھم نماز آرام آرام سے آھستہ آھستہ محبت اور اطمینان
سے ادا کریں..
6)
ھم پیشاب وغیرہ کے زور کے وقت اور میلے کپڑوں میں نماز ادا
نہ کریں..
7)
ھم نماز میں پڑھے جانے والے تمام الفاظ کو سمجھ کر سلیقے
سے پڑھیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله