<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے ھمیں..اپنی ”عبادت“ کے لئے..پیدا فرمایا ہے..وما خلقت الجن والإنس الا ليعبدون..اس لئے ہر ”انسان“..اور ہر ”جن“ میں فطری طور پر..”عبادت“ کی بے پناہ ”صلاحیت“ موجود ہے..آپ جتنی چاھیں، جسقدر چاھیں”عبادت“ کرسکتے ھیں..اس کے لئے آپ کے وقت میں بےانتہا ”برکت“ دے دی جاتی ہے..آپ کے جسم میں مثالی طاقت دے دی جاتی ہے اور آپ کی ”زبان“ اور ”مال“ کو تھکاوٹ اور کمی سے کافی حد تک محفوظ فرما دیا جاتا ہے..بدنی عبادت، قولی عبادت، مالی عبادت..فرائض، سنن، نوافل، تلاوت، اذکار، سخاوت، خدمت..جو کام بھی اللہ تعالی کا حکم ہو..اور اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ھو اور حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ھوئے طریقے پر ھو..وہ ”عبادت“ ہے..یہ موضوع بہت مفصل ہے..مختصر یہ کہ..اللہ تعالی کے مخلص بندوں نے جب خود کو ”عبادت“ میں لگایا تو وہ ایک دن میں اتنی عبادت کرلیتے تھے جو..عام لوگ مہینے میں نہیں کر سکتے..نماز، جھاد، حج، صدقات، تعلیم، تبلیغ، قیام سجدے، دعائیں اور کیا کیا..معلوم ہوا کہ..انسان میں ”عبادت“ کی خاص طاقت رکھی گئی ہے..مگر پھر بھی شیطان وسوسے ڈالتا ہے کہ..بس کرو اور بھی کام ہیں..اتنی دعائیں ھیں کون کون سی پڑھو گے؟..حالانکہ..عبادت جتنی زیادہ ہو..دنیا کے کاموں اور تقاضوں کے لئے پورا وقت بچ جاتا ہے..آج تک شیطان نے کسی مالدار کو یہ وسوسہ نہیں ڈالا کہ..اور پیسے کیا کروگے؟ کوئی کروڑ پتی، ارب پتی شخص..مزید مال سے نہیں اکتاتا جب کہ ھم..مزید عبادت اور دعاؤں سے اکتا جاتے ھیں..اللہ تعالی سے عافیت کا سؤال ہے..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله