<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھمیں ”عافیت“ کا ”جمال“ عطاء فرمائیں..حدیث شریف میں دعاء ہے..اللهم اغننی بالعلم وزينی بالحلم واكرمنی بالتقوى وجملنی بالعافيۃ..یا اللہ مجھے علم کی دولت، حلم کی زینت، تقوی کی عزت اور عافیت کا جمال عطاء فرمائیے..بڑی زبردست دعاء ہے..دل والے ہی اس کی حقیقت کو سمجھ سکتے ھیں..کسی نے خوب کہا کہ..عافیت کے ساتھ تھوڑی سی خیر بھی بہت ہوتی ہے جبکہ عافیت کے بغیر بہت زیادہ خیر بھی تھوڑی ہو جاتی ہے..عافیت کے ساتھ تھوڑی سی عزت بھی بہت ہوتی ہے جبکہ بغیر عافیت کے بہت عزت بھی کچھ نہیں لگتی..دسترخوان پر درجنوں کھانے ھوں..گیراج گاڑیوں سے بھرے ھوں..بینک بیلنس ابل رہا ہو..نوکر، خادم حاضر ہوں..مگر دل کا وال بند ھو جائے تو ہر چیز زھر لگتی ہے..ہمارا دل بھی عافیت کا محتاج اور ھمارا دین بھی عافیت کا ضرورتمند..اس لئے حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے منبرپر جلوہ فرمایا..اپنی حسین و جمیل آنکھوں میں..درد اور خیرخواھی کے آنسو بھرے اور پھر فرمایا..اللہ تعالی سے ”عفو“ اور ”عافیت“ مانگو..کاش حضرت محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو ہی ھمارے قلوب پر اثر کر جائیں..اور ھم اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے جسم میں بہت سی عافیت کھونے کے بعد..اب ”عفو“ اور عافیت مانگنے میں مزید سستی نہ کریں..کچھ بعید نہیں کہ..اگر ھم نے اخلاص کے ساتھ..”معافی“ اور ”عافیت“ مانگنے کا عمل مسلسل شروع کردیا تو..ھمارا بہت کچھ بچ جائے اور جو چھن چکا وہ واپس مل جائے اور آگے جو وقت اور منزلیں آنے والی ھیں انمیں ھمیں ”عافیت“ مل جائے..ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله