مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کی ایک نشانی..اللہ تعالی کے بندے حضرت
علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب..انتقال فرما گئے..انا لله وانا اليه راجعون..اللهم
لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده..علم میں اپنی مثال آپ..حاضر جوابی میں اسلاف کی یادگار..قوت
حافظہ میں حیرت کا ایک باب..وسعت مطالعہ میں..ابن قیم رحمہ اللہ کے ھم پلہ..مناظرہ
میں ناقابل شکست..تحریر و تقریر میں سیل رواں..حقیقت میں قابل رشک علمی صلاحیتوں
کے حامل..حضرت علامہ..واقعی عالم تھے..علامہ کا لفظ ان پر جچتا تھا..میری سعادت کہ
وہ میرے استاذ محترم تھے..ایسے استاذ پر اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم
ہے..لاہور کے ایک اجتماع میں انہوں نے ”مسئلہ جھاد“ اسطرح بیان فرمایا کہ علم کے
دروازے کھلتے چلے گئے..فرمایا..کلمہ پڑھکر ایمان میں داخل ھوئے تو اب پانچ فرائض
لازم ھو گئے..نماز، زکوۃ، صوم رمضان، حج..اور جھاد فی سبیل اللہ..قادیانیت کو
انہوں نے ایسے زخم پہنچائے کہ..امید ھے بہت پیار بھری ”شفاعت“ حضرت آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کے دربار سے پائیں گے..جنوبی افریقہ کی عدالت میں..قادیانیت
کے”غیراسلامی“ مذھب ہونے پر انگریزی میں ایسی مدلل تقریر فرمائی کہ..غیرمسلم ججز
حیرت سے تکتے رہ گئے اور فوراً فیصلہ مسلمانوں کے حق میں دے دیا..حضرت علامہ کی
تصانیف میری نشست گاہ میں ھمیشہ ساتھ رکھی رھتی ھیں..بے شک یہ کتابیں علم کے
موتی..اور مسلمانوں پر حضرت علامہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا احسان ھیں..اللہ تعالی ان
کو مغفرت کا اعلی مقام اور اھل اسلام کی طرف سے بہت جزائے خیر عطاء فرمائیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله