<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے بعض ”انبیاء کرام“ کو دوسرے بعض پر فضیلت
عطاء فرمائی ہے..اللہ تعالی نے بعض مقامات (یعنی جگہوں) اور اوقات کو..دوسری جگہوں
اور اوقات پر ”فضیلت“ عطاء فرمائی ہے..اللہ تعالی کی دی ہوئی فضیلت کو ماننا..اور اس
فضیلت سے فائدہ اٹھانا..بہت سعادت کی بات ہے..ھمیں چاھیے کہ ھم یہ ”علم“ حاصل کریں..افضل
افراد..افضل مقامات اور جگہیں..افضل اوقات اور گھڑیاں..افضل الفاظ..افضل دن..افضل راتیں..افضل
اعمال وغیرہ..یہ شریعت کا ایک مستقل علم ہے..افضل مقامات اور اوقات میں..نیکی کا وزن
بھی بڑھ جاتا ہے اور تعداد بھی..مثلاً اسلاف کا قول ھے کہ..رمضان المبارک کا ایک روزہ..ایک
ہزار روزوں سے افضل..اور ایک رکعت ،ایک ہزار رکعت سے افضل..اور ایک تسبیح (سبحان اللہ
کہنا) ہزار تسبیح سے افضل ہے..کل بدھ کا دن ہے..بدھ کے دن ظہر سے عصر کے درمیان کا
وقت..بہت قیمتی اور افضل ہے..غزوہ احزاب کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
تین دن دعاء فرمائی..آپ کی دعا بدھ کے دن..ظہر اور عصر کے درمیان قبول ھوئی..اور اللہ
تعالی کی فوری نصرت آگئی..یہ معاملہ جن صحابہ کرام نے دیکھا انہوں نے..یہ راز پہچان
لیا..چنانچہ ان کو جب کوئی مشکل اور حاجت پیش آتی تو..اس دن اور اس گھڑی کا انتظار
کرتے..ھم بھی رمضان المبارک میں اس کا فائدہ اٹھائیں..اپنے پہاڑوں جیسے مسائل حل کرائیں..مجلس
انابت کی پرنور مجلس سجائیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله