<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کا فرمان ہے..(ترجمہ) اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ کردیں..اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ نقصان اٹھانے والا ہوگا..اور جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ کسی کو تم میں سے موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے رب مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہ دی کہ میں خیرات کرتا اور نیک لوگوں میں ھو جاتا..اور اللہ تعالی کسی کو مہلت نہیں دے گا جب اس کا وقت آ جائے گا اور اللہ تعالی تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ھیں..(المنافقون 9 تا 11)
یہ سورہ المنافقون کی آخری تین آیات ھیں..جنمیں ایک مسلمان کو ”نفاق“ سے بچنے کا نصاب بتایا گیا ہے..”نفاق“ سے اللہ تعالی بچائے..ھمیں ھمیشہ ڈرتے رھنا چاھیئے..معلوم نہیں کب یہ ظالم دل میں گھس جائے اور ایمان سے (نعوذ باللہ) محرومی ہوجائے..حضرات صحابہ کرام ”نفاق“ سے اسقدر ڈرتے تھے کہ..اتنا کوئی موت سے یا جل کر مرنے سے نہیں ڈرتا..حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے عظیم مؤمن..انکی یہ حالت تھی کہ..ایک بار حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑے درد کے ساتھ قسم دے کر پوچھا کہ کیا میرا نام تو منافقین میں نہیں ہے؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا ہرگز نہیں..مگر میں آپ کے بعد اب کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتاؤں گا..دراصل حضرت حذیفہ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتا دیئے تھے..اور وہ اس علم کو راز رکھتے تھے..یااللہ ”نفاق“ سے آپ کی پناہ..باقی اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله