<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ النِّفَاقِ..یااللہ نفاق سے آپ کی پناہ..صحابہ کرام کی ایک اور دعاء ہے..اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ خُشُوْعِ النِّفَاقِ..یااللہ نفاق والے خشوع اور عاجزی سے آپ کی پناہ..اب سورہ المنافقون میں بیان فرمودہ..نفاق سے حفاظت والے نصاب پر غور فرمائیں..اور ایک بات ھمیشہ کے لئے اپنے دل میں بٹھا لیں..وہ یہ کہ..ایک آدمی کا اپنا مال ہے..بالکل حلال.. اپنے خون پسینے سے کمایا ہوا..ہر طرح کے شک و شبہے سے پاک..مگر وہ اس مال کی وجہ سے نماز میں سستی کرتا ہے..یا اس مال میں سے زکوۃ نہیں دیتا..فرض حج اور فرض جہاد میں یہ مال خرچ نہیں کرتا تو فرمایا گیا کہ..یہ آدمی ناکام ہے، خسارے والا ہے..نفاق کے خطرے سے دوچار ہے..جب اپنےذاتی اور حلال مال میں بخل پر اتنی وعید ہے، اتنی ناراضی ہے تو اندازہ لگائیں کہ..اس شخص کے ایمان کا کیا حال ھوگا جو..حرام مال میں جا پڑے..چوری، ڈاکہ رشوت..سودی کام وغیرہ یا اجتماعی اموال میں خیانت کرے..یہ شخص کتنا ناکام ہے؟..کتنے عظیم خسارے میں ہے..اور نفاق کے کتنا قریب ہے؟..اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ..اسلامی شریعت بہت نرم ہے، بہت آسان ہے تو پھر مال کے معاملے میں اتنی سختی کیوں؟..جواب یہ کہ..مالی معاملات میں خرابی انسان کا سب کچھ خراب کر دیتی ہے، سب کچھ برباد کردیتی ہے..اس کے اخلاق کو تباہ اور اس کے سکون کو غارت کردیتی ہے..اور ایسا آدمی اس قابل نہیں رھتا کہ دین یا دنیا کے معاملے میں اس پر ”اعتبار“ کیا جا سکے..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله