مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کے آخری نبی..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
”پیشین گوئی“ کے تقریبا ساڑھے آٹھ سو سال بعد 857ھ میں ”قسطنطنیہ“ فتح ہوا..اس کا نام
”اسلام بول“ یعنی ”استنبول“ رکھ دیا گیا..یہ فتح صلح سے نہیں جنگ سے ھوئی تھی مگر پھر
بھی..سلطان محمد نے ”آیاصوفیہ“ کا گرجا صلیبیوں سے ان کے منہ مانگے دام..اپنی ذاتی
رقم سے خریدا..اور اسے ”مسجد شریف“ بنا دیا..سلطان بڑے ”اللہ والے“متقی تھے..ڈراموں
اور فلموں میں ان مسلم فاتحین کا جو حلیہ دکھایا جاتا ہے وہ غلط اور تکلیف دہ ہے..سلطان
محمد کی مکمل داڑھی تھی اور وہ مستقل عمامہ باندھتے تھے..اور بہت زبردست تلوارباز ھونے
کے ساتھ ساتھ بڑے عالم بھی تھے..افسوس آج کے مسلمانوں میں ایسےافراد پیدا ھوگئے ہیں
جو..اسقدر بزدل اورغلامی پسند ھیں کہ وہ اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں پر بھی شرم محسوس
کرتے ھیں اور بیہودہ صفائیاں دیتے ھیں..یہانتک کہ ان کو حضرت سیدناابراہیم علیہ الصلوۃ
والسلام کا بتوں کو توڑنابھی..(نعوذباللہ)اچھا نہیں لگتا..یہی لوگ اب”آیاصوفیہ“مسجد
کی بحالی پر طرح طرح کی بزدلیاں چھوڑ رھے ھیں..آج مجلس انابت اور قبولیت دعاء کا دن
ہے..دعاء کریں اللہ تعالی مسلمانوں کو..بحثیت مجموعی جھاد اور خلافت واپس عطاء فرمادیں..اور
ان کو ایسی خودداری اور عزت عطاء فرمائیں کہ وہ..اپنے”اسلاف“کی فتوحات اور کارناموں
کی حفاظت کر سکیں..ہاں ایک ضروری بات رہ گئی..صلیبی لوگ اپنے گرجے بیچتے رھتے ھیں..بندہ
نے خود برطانیہ میں اس کا مشاھدہ کیا ہے..
والسلام
خادم..
لا اله الا الله محمد رسول الله