مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کسی پر اپنا فضل فرمائے..اور اسے ”صحیح عقیدہ“ اور ”درست نظریہ“ عطاء فرما دے تو ایسے شخص کے لئے..نیکیوں کی فیکٹری لگ جاتی ہے..دو مثالوں سے بات سمجھیں..1.ایک شخص نے کسی بے گناہ کو قتل کیا..یہ بڑا جرم ہے..اب جو بھی اس کے اس جرم کو اچھا سمجھے گا وہ بھی کسی حد تک قتل کے اس جرم میں شریک ھو گیا..بغیر کچھ کئے گناہ اس کے سر پر بھی آ گیا..2.کچھ لوگ دین کی بڑی خدمت کر رھے ھیں..کسی نے ان کے اس عمل کو اچھا سمجھا..ان سے محبت کی..ان کے لئے دعاء کی تو وہ بھی ان کے نیک عمل میں گھر بیٹھے شریک ھو گیا..اچھے عقیدے اور درست نظریے کی برکت سے ھم..جن عظیم ھستیوں سے محبت کرتے ھیں..یہ بھی نیکی ہے..اور یہ نیکی چوبیس گھنٹے خودبخود جاری رھتی ہے..جبکہ کسی نے برے عقیدے کی نحوست سے..اللہ تعالی کے مقرب بندوں سے دشمنی اور نفرت دل میں بھرلی تو اب یہ منحوس گناہ  چوبیس گھنٹے اس کے نامۂ اعمال کو مزید سیاہ کرتا رھے گا..یہ اچھے نظریے کی برکت ہے کہ ھم ”آیاصوفیہ“ کی مسجد شریف کے اجر میں شامل ھوگئے اور ھمارے دلوں نے..اس پر خوشی محسوس کرکے مفت نیکی کمالی..یہ معمولی بات نہیں..اللہ تعالی کا فضل اور شکر کا مقام ہے..ورنہ بے شمار لوگ اس مسجد کی بحالی پر سخت جلن اور گھٹن محسوس کر رھے ھیں..اللہ تعالی سے صحیح عقیدہ اور درست نظریہ مسلسل مانگیں اور عقیدے کا علم بھی ضرور حاصل کریں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله