مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ”امت مسلمہ“ کو اس کی کھوئی ہوئی ”عظمت و شوکت“
واپس عطاء فرمائیں..شہسواری، تیر اندازی اور تلوار بازی واپس عطاء فرمائیں..ما شاءاللہ..اس
کے آثار تو ظاہر ھونا شروع ھو گئے ھیں..سلطان محمد فاتح کی تلوار ہاتھ میں پکڑ کر خطبہ
دیا گیا..ترکی کے صدر گھوڑے پر بیٹھ کر مسجد حاضر ھوئے..گھڑ سواری حضرات انبیاء علیہم
السلام کا محبوب طریقہ ہے جو حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ و السلام نے..ملت عربیہ میں
جاری فرمایا..قدیم اھل حکمت کا فرمان ہے کہ..سرداروں اور عزت والوں کو تین کام اپنے
ہاتھ سے کرنے چاھیں..والدین کی خدمت، مہمان کی خدمت اور گھوڑے کی خدمت..حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلفاء راشدین بہترین شہسوار تھے..حضرت فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ باقاعدہ مقابلوں میں حصہ لیتے اور جیتتے رہے..آپ نے اپنے دور خلافت
میں مسلمانوں پر لازم فرمایا کہ اپنے بچوں کو شہسواری سکھائیں..تیراندازی تو شہسواری
سے بھی افضل عمل ہے..دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو ان مبارک اعمال سے غافل کیا..مگر
الحمدللہ..اب پھر آواز لگ رھی ہے اور مشرق تا مغرب اس کے اثرات نظر آرھے ھیں..ملحدین
اور لبرلز چیخ رھے ھیں کہ ان کاموں سے تشدد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے..حالانکہ یہی لوگ
بالی وڈ سے ہالی وڈ تک ایسی فلمیں چلا رھے ھیں جنمیں ہر دو ٹکے کا غلیظ بدمعاش سینکڑوں
افراد کو مار ڈالتا ہے وہاں تشدد نظر نہیں آتا؟..بابا تشدد نہیں..جھاد کا ڈر ہے اور
جھاد رکنے والا نہیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله