<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کی توفیق سے..ان شاءاللہ وہ ہوگا جو کسی نے سوچا بھی نہ ھوگا..بابری مسجد شریف پر آج ”پیلے بندر“ جمع تھے..تھوڑی دیر کے لئے آنکھوں پر اندھیرا چھایا مگر فورا سورہ انفال کی آیت 36 نور بن کر چمکی..اندھیرا دور ہو گیا..امید پکی ہو گئی..دینے والے سے قبولیت کی گھڑی میں مانگا..سائیں حذیفہ، ابوطلحہ..پاملا زور سے مسکرائے..رونگٹے کھڑے ھوئے..دل شھادت کو مچلا..بابری مسجد میں نماز ادا کرنے والا خواب یاد آیا..مایوسی بھاگ گئی..مشرکین سونے کی دو لاکھ اینٹیں وھاں رکھ رھے ھیں..بابری مسجد ان اینٹوں سے اور بہت سی مسجدیں بنائے گی..اور اپنے غازیوں کےلئے ابلق اور ادھم گھوڑے خریدے گی..اللہ تعالی اپنی طاقت دکھانے پر آتا ہے تو ابوجہل اور دوسرے مشرکین سے اپنا گھر تعمیر کراتا ہے..وہ اسمیں بت رکھ دیتے ھیں..اللہ تعالی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جیش یعنی لشکر کو بھیج دیتا ہے..وہ بت توڑ ڈالتے ھیں اور کعبہ کی چھت پر اذان دیتے ھیں..سورہ انفال نے سنایا کہ یہ کافر اپنا مال خرچ کر رھے ھیں..تاکہ لوگوں کو اللہ تعالی کے راستے سے روکیں..یہ ابھی اور خرچ کریں گے..پھر یہ مال ان کے لئے حسرت اور پچھتاوا بن جائے گا اور پھر وہ شکست کھا کر مغلوب ھو جائیں گے..عمارت تم بناؤ..اذان دینے والے جلد آجائیں گے..مگر اس زمانے کے شیر بہت بے چین ھیں..معلوم نہیں عمارت پوری کھڑی کرنے دیں گے یا نہیں..اے ماں..اے بابری مسجد تجھے سلام..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله