مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت تک”استخارے“ کی نعمت پہنچائی..بہت عظیم نعمت، بہت عجیب نعمت..گویا کہ اندھے کے لئے آنکھیں..معذور کے لئے لاٹھی اور سہارا..اور گمشدہ کے لئے رھبر..میرے پاس الفاظ نہیں ھیں کہ جن سے میں”استخارے“ کی شان سمجھا سکوں..آپ خود اپنائیں گے تو سمجھ جائیں گے..اسمیں اھم بات یہ ھیکہ..جنہوں نے ھم تک یہ نعمت پہنچائی..انہوں نے ہر کسی کو اپنا استخارہ خود کرنے کا حکم دیا اور طریقہ سکھایا..پھر یہ دوسروں سے استخارہ کرانے کا رواج کہاں سے نکل آیا؟..اسی لئے بعض اھل علم نے تو دوسروں سے استخارہ کرانے کو”بدعت“ قرار دیا ہے.. یعنی گناہ اور گمراھی..یہ”بدعت“ ہے یا نہیں مگر ایک بات سو فیصد پکی ہے کہ..استخارہ صرف وھی ہوتا ہے جو خود کیا جائے..دوسروں سے کرایا ھوا استخارہ فائدہ نہیں دیتا البتہ دوسروں سے اپنے لئے خیر کی دعاء کرانی چاھیئے.. اللہ کے لئے..اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانیں..استخارہ کو اپنائیں تاکہ.. دل کا اندھا پن دور ھو..بصیرت نصیب ھو..اور کبھی بھی کسی اور سے استخارہ نہ کرائیں..اللہ تعالی کا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله