مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھمیں اپنے حضور مقبول ”سجدوں“ کی توفیق عطاء
فرمائیں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..سجدے بہت زیادہ کیا کرو (ابن
ماجہ) اور فرمایا..سجدے بہت زیادہ کرو جب تم اللہ تعالی کے لئے ایک سجدہ کرتے ھو تو
اللہ تعالی اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند فرما دیتے ھیں..اور ایک گناہ تم سے ہٹا
دیتے ھیں (مسلم)..اب سمجھئے ”مسجد“ اسم مکان ہے..ترجمہ ہے..سجدے کی جگہ..اور اگر جیم
پر زبر پڑھیں ”مسجَد“ تو انسان کے وہ پانچ اعضاء جن پر وہ سجدہ کرتا ہے..”مسجد“کی جمع
”مساجد“ آتی ہے..وہ جگہ اور عمارت جو نماز اور عبادت کے لئے وقف کر دی گئی ہو..مسجد
میں نماز ادا ہوتی ہے..نماز میں قیام بھی ہوتا ہے اور رکوع سجدہ بھی..مگر اس کا نام
”سجدے“ کے لفظ سے لیا گیا..”مسجد“ یعنی سجدے کی جگہ..اور سجدہ اللہ تعالی کے سب سے
زیادہ قُرب کا مقام ہے..معلوم ہوا کہ..مسجد کا اصل کام..بندے کو اللہ تعالی کے قریب
کرنا ہے..اسی لئے ”مسجد“ کو اللہ تعالی کا گھر فرمایا گیا..اللہ تعالی کے قُرب کی جگہ..زمین
پر سب سے پہلے ”مسجد حرام“ تعمیر ھوئی..اور پھر ”مسجد اقصی“..محبت اور قُرب کی اس خوشبودار
تاریخ میں..ھم بھی اللہ کرے شامل ھو جائیں..مسلمانو! مسجد بناؤ..مسجد کو آباد کرو..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله