مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھمیں "دین" کی سمجھ عطاء فرمائیں..ایک
ضروری بات سمجھ لیں..ھم کہتے ھیں..السلام علیک ایہا النبی ورحمةاللہ وبرکاتہ..اس کا
ترجمہ الفاظ کے مطابق یہ بنتا ھے..اللہ تعالی کی سلامتی ھو آپ پر اے نبی..اور اللہ
تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ھوں..بظاھر یہ "خطاب" کا صیغہ ھے..جیسے
کوئی سامنے موجود ھو اور اس سے یہ کہا جا رھا ھو..جبکہ صورتحال یہ ھے کہ..آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے یہ الفاظ اپنے صحابہ کرام کو سکھائے..اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ھمیشہ
ان کے سامنے نہیں ھوتے تھے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی جھاد پر تشریف لے جاتے تو پیچھے
جن کو چھوڑ جاتے وہ انہی الفاظ میں سلام پڑھتے تھے..اور جب صحابہ کرام سفر پر ھوتے
تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف فرما ھوتے تو سفر میں بھی..صحابہ
کرام یہی پڑھتے تھے..السلام عليك ايهاالنبى ورحمة الله وبركاته..معلوم ھواکہ..یہاں
خطاب کا صیغہ..تعظیم، محبت، اکرام اور استحضار کے لئے ھے..اس معنی میں نہیں ھے کہ..آپ
صلی اللہ علیہ وسلم ھمارے سامنے موجود ھوتے ھیں..ھم کہاں اس قابل؟ ایک مؤمن کے ایمان
کے لئے ضروری ھےکہ وہ..رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد رکھے..انکی تعظیم بجا لائے..اور
خود کو انکی نبوت و رسالت کے سائے میں سمجھے..پس اسی لئے حضرات صحابہ کرام کے زمانے
میں بھی یہی سلام کا افضل طریقہ تھا اور آج بھی یہی سلام کا افضل ترین طریقہ ھے اور
اسمیں اللہ تعالی کے فرمائے ہوئے سلام کی اتباع ہے کہ..ھم نماز میں بھی پڑھیں اور ویسے
بھی اپنا ورد بنائیں..السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله