مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی”ھمیں“ یقین کی دولت عطاء فرمائیں..اللہ تعالی نے ھمیں حکم فرمایا کہ ھم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجیں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھمیں بتایا کہ تمہارا سلام..فرشتوں کے ذریعے مجھ تک پہنچتا ہے اور میں جواب ارشاد فرماتا ھوں..اور اللہ تعالی سلام پڑھنے والے پر دس سلام نازل فرماتے ھیں..اب مسلمان کو ان تمام باتوں کا یقین ھونا چاھیے..اسیطرح ہر مسلمان کے دل میں..”لا الہ الا اللہ“ کے بعد”محمد رسول اللہ“ بھی نقش ہونا چاہیئے..یہ دونوں اجزاء ملیں گے تو..ایمان ملے گا..اسلام ملے گا..یہ دو باتیں آپ نے سمجھ لیں تو اب آپ کے لئے سلام کو سمجھنا آسان ھو گیا السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور محبت ھمارے دل میں حاضر ہے..اور ھمارا سلام بھی ان تک پہنچ رھا ہے تو ایسی حالت میں ھم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور محبت کو اپنے سامنے محسوس کیا اور خطاب کا صیغہ استعمال کرکے سلام پیش کیا السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته اسے کہتے ھیں تعظیم..اسے کہتے ھیں استحضار..باقی ہر جگہ حاضر و ناظر صرف اور صرف اللہ تعالی ھیں..اور یہ اللہ تعالی ھی کی شان ہے کہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ھو سکتے ھیں..کسی اور محترم ھستی کو ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھنا خود اس ھستی کی بے ادبی ہے..ھم کہاں اس قابل..اور ھماری خلوت و جلوت کہاں اس لائق کہ ھم اتنی عظیم ھستی کا سامنا کرسکیں..اللہ تعالی تو اللطیف ھیں، خالق ھیں، علیم ھیں اور ستار ھیں اور كل يوم هو فی شأن..اور ان کی شان ھمارے تصور سے بہت بلند ہے..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله