مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی مغفرت اور اکرام کا اعلی مقام نصیب فرمائیں..حضرت اقدس مولانا سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ تعالی کو..آج ان کی ایک عبارت ملاحظہ فرمائیں..تحریر فرماتے ھیں..”سورۂ احزاب آیت“(54) کی بنا پر علماء نے فرمایا ہے کہ ہر آدمی پر زندگی میں کم از کم ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا فرض ہے..اور بار بار درود و سلام پڑھنا اہم ترین عبادت ہے، پس صلوۃ و سلام کو نماز میں شامل کرنے سے بہتر کیا ہوسکتا ہے کہ ہر نماز میں بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا جائے..اسکی نظیر: شاہ ولی اللہ قدس سرہ کا قول ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے پس اسکی شان بلند کرنا ضروری ہے اور نماز سے بہتر قرآن کریم کی شان بلند کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی اس لئے نماز میں قراءت کو فرض قرار دیا گیا ہے..اللہ تعالی نے حکم فرمایا (وسلموا تسليما) ”السلام عليك ايها النبی“ پڑھنے سے ”سلموا“ پر عمل ھو جاتا ہے اور ”ورحمة الله وبركاته“ میں مفعول مطلق ”تسلیما“ پر عمل ھو جاتا ہے..بعض حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تشھد کے سلام میں تبدیلی کی تھی..وه ”السلام عليك ايها النبی“ کی جگہ ”السلام على النبی“ پڑھتے تھے کیونکہ کہ”عليك“ حاضر سے خطاب ہے..اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما چکے ھیں..مگر امت نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا اور اس کی دو وجہیں ہیں..ایک! آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جو عورتیں گھروں میں نماز پڑھتی تھیں یا جو مرد مسجد نبوی کے علاوہ دیگر مساجد میں نماز پڑھتے تھے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، پھر بھی وہ صیغہ حاضر ” السلام عليك“ کہتے تھے دوسری وجہ! یہ کلمہ حکائی ہے، یعنی شب معراج کی یادگار ہے، حکائی کلمہ کو اسکی اصل شکل پر باقی رکھنا ضروری ہے، جیسے ”قل هو الله احد“ میں مخاطب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف بری کے بعد بھی ”قل“ کو پڑھنا ضروری ہے اس کو حذف کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ کلمہ حکائی ہے..والله اعلم (تحفۃ الألمعی بتصرف یسیر)

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله