مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھم سب کو..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
”روضۂ اطہر“ پر حاضر ھو کر..سلام پیش کرنے کی توفیق بھی عطاء فرمائیں..ابن ابی سعید
فرماتے ھیں..میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ھوا..رخصت ھوتے
وقت آپ نے فرمایا..مجھے تم سے ایک حاجت ہے..تم جب مدینہ منورہ پہنچنا اور روضہ اقدس
پر حاضر ھونا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا..ایک روایت
میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز ”روضہ اقدس“ پر اپنا سلام بھیجنے کے لئے باقاعدہ
تیز رفتار (ڈاک) والے گھوڑوں پر افراد بھیجتے تھے..دیکھیں کتنا بڑا خرچہ..کتنا اھتمام
اور کتنا عشق ہے..یہ دونوں واقعات حضرت ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھے ھیں..سلام کے بارے
میں آج آخری مکتوب ہے..اکثر باتیں رہ گئیں..بہت تھوڑی عرض ھو سکیں..آخر میں چند ضروری
گزارشات..1.ھمیں صلوۃ کا بھی حکم ہے اور سلام کا بھی..حضرات صحابہ کرام نے پہلے سلام
سیکھا..پھر صلوٰۃ سیکھی..نماز کے ہر قعدہ میں تشھد پڑھنا واجب ہے اور سلام تشھد کا
حصہ ہے..پہلے کسی مکتوب میں واجب کی جگہ فرض کا لفظ آگیا تھا..اھل علم جانتے ہیں کہ
لازمی چیزوں کے لئے اس طرح کا استعمال عام ہے..2.الحمدللہ تمام مسلمان نماز میں ”سلام“
پڑھتے ہیں..اس یاددھانی کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے علاوہ بھی سلام کی کثرت سے بھرپور
فائدہ حاصل کریں..3.جن مسلمانوں نے صلوٰۃ یعنی درود شریف کی مقدار اپنے لئے مقرر کر
رکھی ہے وہ سلام کی وجہ سے اسمیں ھرگز کمی نہ کریں..بلکہ سلام کو بھی اسمیں بڑھا دیں..یہ
کم کرنے والی چیزیں نہیں ھیں..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ”صلوٰۃ و سلام“ کی قدر
کرنے..اور زیادہ سے زیادہ یہ عبادت ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله