مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی”سود“کی ”لعنت“اور اس کی ہر شکل سے ھماری حفاظت
فرمائیں..کل کے مکتوب میں ”ایزی پیسہ اکاؤنٹ“ کے بارے میں جو عرض کیا تھا اس پر کافی
سؤالات آرھے ھیں..اس لئے مناسب معلوم ھوا کہ اس موضوع پر ”جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ
بنوری ٹاؤن“ کا فتوی مکمل شائع کر دیا جائے..تاکہ مسئلے کی پوری تفصیل آپ تک پہنچ جائے..لیجئے
ملاحظہ فرمائیے..
الجواب حامدا و مصلیا..’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ ‘‘ ایک ایسی سہولت
ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم سے کئی قسم
کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، رقوم کا تبادلہ، موبائل وغیرہ
میں بیلنس کا استعمال وغیرہ..نیز تحقیق کرنے پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی پشت پر
ایک بینک ہوتا ہےجس کا نام "telenor micro-financing bank " ہے،
یہ بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے کہ جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سود
پر رکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کاروباروں کے لئے سود پر قرض بھی دیا جاتا ہے..
اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض
ہے اور چوں کہ قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم
کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے؛ اس لئے اس قرض کے بدلے کمپنی کی طرف سے دی جانے والی سہولیات
وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، لہذا کمپنی
اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم
کرتی ہے یا رقم کی منتقلی پر ڈسکاؤنٹ وغیرہ دیتی ہے یا ایزی لوڈ پر کیش بیک دیتی ہے
تو ان کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس لئے کہ
اس اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت قرض ہے،
اور قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے، لیکن کمپنی
اس پر جو مشروط منافع دیتی ہے، یہ
شرعاً ناجائز ہے؛ اس لئے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع کے لین دین
کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے..(مصنف ابن أبی شیبہ،کتاب البیوع والاقضیۃ
رقم الحدیث: ۲۰۶۹۰)
نیز چوں کہ اس صورت میں مذکورہ
اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے؛ اس لئے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا بھی جائز نہیں ہوگا..اگر کوئی ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘ کھلواچکاہو تو اس کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ جلد از
جلد مذکورہ اکاؤنٹ ختم کروائے اور صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتا ہے، یا صرف جمع
کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتاہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس
کے لئے جائز نہیں ہوں گے..اور اگر کوئی کمپنی
ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانے کو مخصوص رقم جمع
کرانے سے بھی مشروط نہ کرے اور رقم جمع کرنے
پر اضافی رقم یا سہولیات وغیرہ بھی نہ دے بلکہ رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی یا
لوڈ کرنے کی حد تک سہولیات ہوں تو ایسا اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے استفادہ کرنا جائز
ہوگا..واضح رہے کہ عموماً ایزی پیسہ اکاؤنٹ پہلی صورت والا ہوتاہے، اس لئے ’’ایزی پیسہ
اکاؤنٹ‘‘ کھلوانے سے اجتناب کیا جائے..
(دار
الإفتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن)