مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزے اور قیام کا حکم ”ایمان والوں“ کو دیا ہے..اب ظاہر بات ہے کہ روزہ وہی رکھے گا جو ”ایمان والا“ ھوگا..تو پھر یہ شرط کس لئے ارشاد فرمائی گئی کہ جو..ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھے گا اس کے سارے گناہ معاف فرما دئیے جائیں گے؟..اس سؤال کا جواب یہ ہے کہ..ایمان والوں کو بھی ایمان کی ”تجدید“ اور تازگی کی ھمیشہ ضرورت رھتی ہے..ورنہ ان کے اعمال بے جان ھوتے چلے جاتے ھیں..مثلاً آپ نے نماز کے لئے وضو کرنا ہے..ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اٹھے اور وضو کرلیا..دوسرا یہ کہ پہلے اچھی طرح دل کو حاضر کرکے دل یا زبان سے کہیں..یااللہ بے شک وضو آپ کا حکم ہے..میں آپ کا یہ حکم پورا کررہا ہوں تاکہ آپ مجھ سے راضی ہوں..اور مجھے وضو کے وہ سارے فضائل عطاء فرمائیں جو آپ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ھیں..آپ میرا وضو قبول فرمائیں..اب اس تجدید اور تازگی کے بعدجو وضو ہوگا وہ کچھ اور ہی ہوگا..یہی حال روزے کی نیت کا ہے..آج کل لوگوں نے عبادات کے طبی، سائنسی اور ڈاکٹری فوائد کا اتنا چرچہ کردیا ہے کہ..اچھے خاصے لوگوں کی نیت بھی گڑ بڑ ھوجاتی ہے..اس لئے ”احتساب“ کو مضبوط پکڑیں کہ..صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہی مقصود رہے..

والسلام

خادم..

           لااله الاالله محمد رسول الله