<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کا شکر..اچھی صفات پر..اللہ تعالی کا شکر اچھی
عادات پر..اللہ تعالی کا شکر اچھے نظریات پر..
اَلْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعالَمِینْ..
اگر ھم میں سے کوئی..اچھی صفات والا ہے..تو یہ صفات اس کو
کس نے دی ہیں؟..اگر کوئی اچھی عادات والا ہے تو یہ نعمت اس کو کس نے عطاء فرمائی ہے؟..بے
شک اللہ تعالی نے..تو پھر واجب ہوا نا کہ اپنی اچھی صفات..اپنی اچھی عادات اور اپنے
اچھے نظریات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے..ھم شکر ادا کریں گے تو ”فخر“ سے بچ
جائیں گے..اور فخر بہت بری چیز ہے..بس یوں سمجھ لیں کہ ہر محرومی کی چابی ہے..کچھ لوگ
اپنے اچھے نظریات پر فخر کرتے تھے..پھر ایسے اوندھے گرے کہ بالکل دوسرے کنارے پر جا
کھڑے ہوئے..شکر کا مطلب یہ ھے کہ ھم اعتراف کرتے ھیں کہ..یہ نعمت ھمیں اللہ تعالی نے
عطاء فرمائی ہے..اور ھم اس پر اللہ تعالی کے شکر گزار ھیں..احسانمند ھیں..اب فخر کی
گنجائش ہی ختم..ایک شخص کو بھوک کی حالت میں کوئی کھانا کھلا دے تو وہ اس کا شکریہ
ادا کرتا ہے..یعنی کہتا ہے کہ میں تو بھوکا تھا..آپ نے احسان کیا کہ مجھے کھانا لے
دیا..اب یہ بے چارہ فخر کا سوچ ہی نہیں سکتا..اسی طرح بندہ کہتا ہے کہ..یا اللہ مجھے
یہ اچھا نظریہ آپ نے عطاء فرمایا ہے..مجھے یہ اچھی صفت آپ نے عطاء فرمائی ہے..میرے
پاس تو کچھ بھی نہیں تھا..سب کچھ آپ کا عطاء فرمودہ ہے..
اَلْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعالَمِینْ، اَلْحَمْدُ
للہ رَبِّ الْعالَمِینْ..
مغرب سے..جمعہ مبارک..یوم بدر شریف اور مقابلہ حسن..ایماناً
واحتساباً..
والسلام
خادم..
لااله الا الله محمد رسول الله