<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں..اللہ تعالی کا انعام دیکھیں..اللہ تعالی کا فضل دیکھیں..باپ بھی شھید..اور بیٹا بھی شھید..اور بیٹا کچھ آگے نکل گیا..حضرت سیدنا حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنھما..غزوہ بدر میں شھید ھوئے..جبکہ ان کے ”باباجان“ حضرت سراقہ بن حارث رضی اللہ عنہ ”غزوہ حنین“ میں شھید ھوئے..حضرت سیدنا حارثہ بالکل نوجوان تھے جب وہ ”شھداء کرام“ کے اھم ترین دستے”شھداء بدر میں شامل ھوئے..انکی ”امی محترمہ“ حضرت سیدہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ مجھ کو ”حارثہ“ سے کسقدر محبت تھی پس اگر وہ ”جنت“ میں ہے تو میں صبر کروں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھوں..اگر (خدا نخواستہ) دوسری صورت ہے تو پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کروں گی..(یعنی بہت ماتم اور رونا دھونا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا دیوانی ھوگئ..ایک ”جنت“ نہیں اس کے لئے بہت سی جنتیں ہیں وہ بلاشبہ ”جنت الفردوس“ (یعنی سب سے اعلیٰ جنت) میں ھے (سیرت المصطفیٰ بحوالہ صحیح بخاری(

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله