<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالیٰ سے ”ایمانی قوت“ کا سؤال ہے..اور ہر اس ”قوت“ کا..جو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ
کی ”محبت“ پانے کا ذریعہ بنے..بے شک ”قوی مؤمن“ اللہ تعالیٰ کے نزدیک..”ضعیف مؤمن“
سے زیادہ محبوب..اور زیادہ بہتر ہے..تمام حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام..قوی
تھے یعنی طاقت ور..اور ”امین“ بھی تھے..یعنی بڑے امانت دار..قرآن مجید کے الفاظ میں
وہ..”اولوالأیدی“ بھی تھے.. یعنی مضبوط ہاتھوں والے..طاقت و قدرت والے..اپنے ہاتھوں
سے کام کرنے والے..ہنر والے..اور ”والأبصار“ بھی تھے.. یعنی آنکھوں والے.. بصیرت والے..روشنی
والے..علم والے، حکمت والے..ان حضرات کی روحانی طاقت فرشتوں سے زیادہ تھی..اور جسمانی
طاقت جنت کے مردوں سے بھی زیادہ..ان کو لڑنے کا حکم ملتا تو ایسا لڑتے کہ آسمانوں کو
جھکا دیتے..اور جب ان کو برداشت اور صبر کا حکم ملتا تو ایسا صبر دکھاتے کہ پہاڑوں
کو پسینہ آ جاتا..اے مسلمانو! اللہ تعالی سے قوت مانگو..ایمان کی قوت، یقین کی قوت،
دل کی قوت، بدن کی قوت، فیصلے کی قوت، حواس کی قوت اور استقامت کی قوت..رمضان المبارک
ھمیں قوت پانے کے سارے طریقے سکھاتا ہے..اس لئے رمضان المبارک سے خوب فیض حاصل کریں..سستی
سے توبہ، بیماری کی فکر سے توبہ، کم ہمتی سے توبہ..ہمیشہ مضبوط رہیں..تواضع کے ساتھ،
قوت سے تیز تیز چلیں..مرتے دم تک پر جوش رہیں، کارآمد رہیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله