<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ”اپنی معافی“ عطاء فرمائیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا..یارسول اللہ! یہ تو بتائیے کہ اگر میں جان لوں کہ ”لیلۃالقدر“ کونسی ہےتو میں اسمیں کیا پڑھوں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..یہ پڑھیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

مسنون دعاء کے یہی الفاظ ہیں..باقی بعض لوگ ”عفو کریم“ کہتے ہیں اور آخر میں ”فاعف عنا“ یہ جائز اضافے ہیں..اصل مسنون الفاظ نہیں..حضرت امی جی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر میں جان لوں..معلوم ہوا کہ ”لیلۃ القدر“..ایک چھپی ہوئی نعمت ہے..بعض لوگوں نے جو ”ستائیس“ کو حتمی سمجھ لیا ہے..واللّٰہ اعلم..وہ درست معلوم نہیں ہوتا..دوسری بات یہ سمجھ آئی کہ ”لیلۃ القدر“ کو اس کا اہتمام کرنے والے جان اور پہچان بھی سکتے ہیں..جیسا کہ حضرت ام المومنین نے فرمایا..تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ..اللہ تعالی کی معافی ہمارے لئے..ہمارے اعمال سے زیادہ ”نافع“ اور ”مفید“ ہے..اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمل نہیں بتایا بلکہ..معافی مانگنے کی تلقین فرمائی..اللہ تعالی کے شہنشاہی دربار سے ”معافی“ مل گئی تو پھر..سب کچھ مل گیا..

اس لئے ان راتوں اور ان دنوں میں..دل کی توجہ اور عاجزی کے ساتھ..جگر اور آنکھوں کے آنسوؤں کے ساتھ ہم سب کہیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

اللہ تعالی ”العفو“ ہیں..بہت معاف فرمانے والے تو ہم بھی..معاف کرنا سیکھیں..اور ”معاف“ کرنے کی عادت اپنائیں..اللہ تعالی کو ”معافی“ پسند ہے..سبحان اللہ..”معافی“ ہماری ضرورت..اور ہمارے رب کی محبت..تو پھر دل کی ندامت سے بار بار مانگیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله