<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالیٰ نے ”کمزور“ اور ”فقیر“ مسلمانوں کو بڑا مقام
عطاء فرمایا ہے..
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:بے شک تمہاری نصرت کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے تمہارے کمزوروں کی
وجہ سے (مسند احمد)..
یعنی..معذور، کمزور، مسکین افراد کی برکت سے اللہ تعالی
کی نصرت اور اللہ تعالیٰ کا رزق اترتا ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت دکھائی
گئی تو اسمیں اکثر فقراء تھے..یعنی دنیا میں وہ فقراء تھے..جنت میں تو ”بادشاہ“ بن
گئے..بڑے بادشاہ..کئی دن سے”قوت“ کا موضوع چل رہا ہے..”المؤمن القوي“ بننے کی دعوت
دی جارہی ہے..وہ ایک الگ ”موضوع“ ہے اور الگ ”فکر“..مسلمان جب اللہ تعالی کے لئے قوت
بنانے کی فکر چھوڑ دیتے ہیں تو وہ..خود بھی ذلت میں جا گرتے ہیں..اور اپنے دین کو بھی
کمزور بنا دیتے ہیں..اس لئے ان شاءاللہ وہ دعوت چلتی رہے گی..اللہ کرے اس دعوت کو مکمل
اخلاص کے ساتھ لیکر کھڑے ہونے والے زیادہ سے زیادہ افراد مل جائیں..دل روتا ہے جب..”بدھ
ازم“ جیسے ناکارہ، بےکار اور بے فائدہ باطل مذہب کے بھکشو..صرف اپنی جسمانی پھرتی،
صحت اور چستی کے زور پر ہزاروں لاکھوں افراد کو گمراہ کرتے ہیں..جبکہ حضرت سیدنا خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ جیسی آسمانی بجلیوں سے ایمانی
رشتہ رکھنے والے مسلمان سستی، غفلت، بیماری اور گیس میں پڑے کراہ رہے ہوں..اللہ تعالی
کا قطعی حکم ہے کہ قوت بناؤ..ہم اگر مسلمان ہیں تو ہمیں اس حکم کو بھی نماز روزے کے
حکم کی طرح لینا ہوگا..باقی جو قدرتی طور پر معذور، بیمار اور کمزور ہوں ان کے الگ
فضائل اور مقامات ہیں..اور ان کے لئے بھی حکم ہے کہ..وہ ایمان کی قوت بنائیں اور ہر
وہ قوت جو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنا سکتے ہوں..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن
مرحبا..والسلام
خادم..
لااله
الاالله محمد رسول الله