<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے جو بندے ”اعتکاف“ بیٹھے ہیں..وہ اس ”نعمت“ پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..جو مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھ رہے ہیں..وہ اس فرض کی ادائیگی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..جو خوش نصیب زیادہ تلاوت کر رہے ہیں..اور ختم پر ختم کر رہے ہیں..وہ اس سعادت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..دو گھنٹے تلاوت کی تو ماشاء اللہ اب..ایک دو منٹ اس نعمت کی قدر محسوس کرتے ہوئے ”شکر“ میں ڈوب جائیں..

الحمدللہ، الحمدللہ..الحمدللہ رب العالمین..

اللہ تعالی نے اپنا کلام پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائی..بڑا ہی کامیاب ہے وہ انسان جسکی زندگی ”الحمدللہ“ اور ”استغفراللہ“ کے درمیان چلتی رہتی ہو..اور اس کی زندگی کی بنیاد..

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“..

پر ہو..نعمت آئی تو الحمدللہ..غلطی ہوئی تو استغفراللہ..عمل کی توفیق ملی تو الحمدللہ..کوتاہی ہوئی تو استغفراللہ..رب کی طرف دیکھا تو الحمدللہ اپنی طرف دیکھا تو استغفراللہ..آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ اپنی بیماری چھپاتے ہیں..ان کا نظریہ..یہی ”الحمدللہ“ ”استغفراللہ“ والاہوتا ہے..کہ جب ہم اپنے اوپر ہونے والی ساری نعمتیں نہ شمار کر سکتے ہیں نہ بتا سکتے ہیں تو پھر..ایک آدھ بیماری آگئی تو اسے بتا کر..لوگوں کے سامنے اللہ تعالی کا شکوہ کیوں کریں؟..الحمدللہ اور استغفراللہ پکا نصیب ہو جائے تو..بندے کا اللہ تعالی سے تعلق بہت ”میٹھا“ اور ”محبت بھرا“ ہو جاتا ہے..جب اعتکاف، تلاوت اور عبادت کی کثرت پر شکر لازم ہے تو جو لوگ دین کی خدمت، دین کی عظمت اور اسلام کی سربلندی کی محنت میں لگے ہوئے ہیں..ان پر کتنا شکر واجب ہوگا؟ ان کو تو ماشاءاللہ..بڑے عمل کی توفیق مل رہی ہے..شکر ادا کرو دین کے دیوانو..شکر بہت شکر..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله