<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی نے ہمیں ”بدگمانی“ سے روکا ہے..
يَآ أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا
كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ(الحجرات(
”بدگمانی“
اللہ تعالی سے ہو تو یہ انسان کو ”کفر“ اور ”نفاق“ تک لے جاتی ہے..اور ”بدگمانی“ مسلمانوں
سے ہو تو یہ انسان کو ”کبیرہ گناہ“ تک لے جاتی ہے..اور انسان کو ”اکیلا“ اور ”کمزور“
کر دیتی ہے..ہم کسی سے اچھا گمان رکھیں گے اس کے ”مسلمان“ ہونے کی وجہ سے تو یہ نیکی
والا کام ہے..وہ انسان اچھا ہو یا نہ ہو..لیکن اگر ہم کسی مسلمان سے ”بدگمانی“ رکھیں
گے تو اگر وہ برا نہیں ہے تو ہم جھوٹ، تہمت اور ظلم کے گناہ میں خوامخواہ مبتلا ہوگئے..”بدگمانی“
ایک آگ ہے جو انسان کو جلاتی رہتی ہے..اور اس کی وجہ سے انسان طرح طرح کی محرومیوں
میں مبتلا ہوجاتا ہے..ایک مسلمان کے لئے جس طرح دوسرے مسلمان کی جان لینا حرام ہے..جس
طرح اس کا مال لوٹنا حرام ہے..اسی طرح اس کے بارے میں برا گمان رکھنا بھی حرام ہے..شیطان
ہر وقت ”بدگمانی“ کے جراثیم پھیلاتا رہتا ہے..تاکہ ہم ہر کسی کو برا سمجھ سمجھ کر..اکیلے
ہوتے جائیں، کمزور ہوتے جائیں.. غیبتیں کرتے رہیں..چغلیاں کھاتے رہیں..مسلمانوں کا
گوشت بھونتے رہیں..کسی سے فیض نہ پا سکیں..کبھی اجتماعی طاقت نہ بن سکیں..اور اپنی
ذات کے تکبر میں مبتلا ہوتے رہیں..اے مسلمانو! رمضان المبارک کی ان باسعادت گھڑیوں
میں ہم ”بدگمانی“ سے توبہ کریں..اللہ تعالی سے فریاد کریں کہ وہ ہمیں ”بدگمانی“ اور
اس کی منحوس عادت سے بچائیں..اور ہماری اب تک کی بد گمانیاں معاف فرمائیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله