<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی تمام ”مقروض“ مسلمانوں کو ”قرض“ سے خلاصی عطاء فرمائیں..اور وہ مسلمان جو مرنے کے بعد ”قرض“ کی وجہ سے ”پکڑ“ میں ہیں..اللہ تعالی ان کے ”ورثاء“ کو ان کا ”قرض“ ادا کرنے کی توفیق اور ہمت عطاء فرمائیں..اللہ تعالی رمضان المبارک کے ”نفحات“ کی برکت سے ہمیں ”قرض“ سے بچائیں..اور وہ مسلمان جن کو ”قرض“ لینے کی عادت پڑ گئی ہے اللہ تعالی ان کو اس بیماری سے نجات عطاء فرمائیں..اللہ تعالی اپنے اسم مبارک ”الحکیم“ کی برکت سے..ہمیں مال اور موت کے بارے میں ”حکمت“ اور ”سمجھ“ عطاء فرمائیں..ان دو چیزوں کے بارے میں جسے ”حکمت“ اور ”سمجھ“ نصیب ہو جائے وہ بہت بڑی خیر پا لیتا ہے..دعاء کی قبولیت کا وقت ہے..”قرضے“ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ لینی چاہیے..اور عزم کرلینا چاہیے کہ..بغیر سخت ضرورت کے کبھی ”قرض“ نہیں اٹھائیں گے..اور قرض اتارنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر اور ٹال مٹول نہیں کریں گے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کا جنازہ تک خود نہیں پڑھایا جو ”قرض“ ادا کئے بغیر وفات پا گیا تھا..ایک قرض بہت خطرناک ہے وہ ہے اجتماعی مال میں سے..کچھ یہ سوچ کر لے لینا کہ بعد میں دے دوں گا..اور اس کا کسی کو علم تک نہ ہو..جس پر ایسا قرض ہو وہ فورا کسی کو بتا دے اور روز صلوٰۃ حاجت ادا کرکے..اس قرض کی ادائیگی کی دعاء مانگے..اور ایک قرض بہت بھاری اور بہت مہنگا..وہ ہے مسلمانوں پر ناجائز ظلم کرنا..ان کی غیبت کرنا..ان پر لعنت بھیجنا..ان کی چغلی کھانا..انہیں گالی دینا..انہیں بےعزت کرنے کی کوشش کرنا..اس ”قرض“ کی ”ادائیگی“ انسان کے اعمال سے ہوگی..یا ان لوگوں کے گناہ اس کے سر ڈال کر ہوگی..اس مہنگے قرضے سے اللہ تعالی کی پناہ..زیادہ سے زیادہ قرآن مجید پڑھ کر اور نفل اعمال کرکے..ان اہل حقوق کو ایصال ثواب کیا جائے..اور توبہ کر لی جائے کہ..ایسا قرضہ مزید اپنے سر نہیں چڑھانا..یااللہ آپ کریم ہیں..آپ سے ہی امید ہے..آپ ہر قرضے سے ہماری حفاظت فرمائیں..اور جو چڑھ چکے ان کو اتار دینا آپ کے لئے کچھ مشکل نہیں آپ ہر چیز پر قادر ہیں..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله