<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی جو ”دے“ اسے کوئی ”روک“ نہیں سکتا..اور اللہ
تعالی جو ”روک“ لے وہ کوئی دے نہیں سکتا..اللہ تعالی کسی کو حکومت دینا چاہے..عزت دینا
چاہے..رزق دینا چاہے، بیٹا بیٹی دینا چاہے..تو اسے وہ ضرور ملتی ہے..سارا جہان مل کر
بھی اسے نہیں روک سکتا..اور اللہ تعالی جسے جو چیز نہ دینا چاہیں..سارا جہاں مل کر
بھی اسے وہ نہیں دے سکتا..یہ وہ ایمانی سبق ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر
فرض نماز کے بعد دہراتے تھے..
اَللّٰهُمَّ لَاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ
لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ..
یا اللہ آپ جو دیں اسے کوئی روک نہیں سکتا..اور
جو آپ روک لیں وہ کوئی دے نہیں سکتا اور کسی کی شان و مالداری آپ کے سامنے اس کے کسی
کام کی نہیں..(بخاری(
کتنی واضح دعاء ہے..اور کتنا مضبوط اور سچا عقیدہ..یہ عقیدہ
کسی انسان کو نصیب ہو جائے تو وہ ہزاروں بیماریوں اور کمزوریوں سے بچ جائے اور طاقتور
مؤمن بن جائے..ہم لوگوں سے ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ ہماری روزی بند نہ کر دیں..ہم کتنے
لوگوں سے بغض رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے رزق، ترقی اور راستے کی رکاوٹ ہیں..ہم کتنے لوگوں
کی ناجائز غلامی، چاپلوسی اور حمایت کرتے ہیں کہ وہ ہمارے رزق اور ترقی کے مالک ہیں..حالانکہ..
دینے والا صرف اللہ..المعطی ھو اللہ..اور روکنے والا بھی
صرف اللہ..المانع ھو اللہ..
ہمیں چاہئے کہ ہم اس دعاء کو سمجھیں..زیادہ سے زیادہ مانگیں
اور اس دعاء کی قوت اور عقیدے کو حاصل کریں..حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے..
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا
شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ
ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ (بخاری(
والسلام
خادم..
لااله
الاالله محمد رسول الله