مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی نے جن ”مسلمانوں“ کو ”کاروبار“ کا ذوق عطاء فرمایا ہے..یا وہ مسلمان جو ”مالی مشکلات“ کا شکار ہیں..اور کاروبار کرنا چاہتے ہیں..وہ ”غنم“ کی طرف بھی توجہ فرمائیں..”غنم“ تین چھوٹے حلال، بابرکت جانوروں کو کہتے ہیں..1.دنبہ..2.بھیڑ..3.بکری.. قرآن مجید میں ”غنم“ کا تذکرہ ہے..اور روایات کے مطابق ”غنم“ حضرات انبیاء علیہم السلام کا مال ہے..حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ السلام نے ”غنم“ کی دیکھ بھال کی ہے..یعنی انہیں ”چرایا“ ہے..جو کہ ایک محنت طلب، مشکل، صبر آزما اور مشقت والا کام ہے..دنبوں، بھیڑوں اور بکریوں کو انکی جگہ سے ہانک کر چراہ گاہ لے جانا..راستے بھر ان کو منظم رکھنا..ان کی حفاظت کرنا..درندوں، چوروں اور لٹیروں سے انہیں محفوظ رکھنا..انہیں کھلانا، پلانا..اور پھر واپسی لانا..یہ لمبی چہل قدمی، خوب بھاگ دوڑ اور مسلسل نگرانی والا کام ہے..ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ”غنم“ چرائی ہیں..اور آپ نے گھروں میں”غنم“ رکھنے کی ترغیب دی ہے..اور انہیں ”برکت“ کا ذریعہ قرار دیا ہے..”الانعام“ یعنی چوپائے اور ”غنم“ اسلامی معیشت کے اہم ستون ہیں..غریب مسلمان اگر ”مرغیاں“ پالیں..اور مال والے مسلمان اگر چوپائے، غنم اور گھوڑے پالیں تو اس میں ان کے لئے بہت منافع اور بہت برکت ہے..”کرنسی نوٹوں“ والی ”معیشت“ مسلمانوں کو غلام بنانے کے لئے ہے..اربوں کے نوٹ..منٹوں میں بے کار کاغذ بن جاتے ہیں..مگر گھوڑا اور دنبہ تو کسی یہودی ورلڈ بینک کے اشارے پر..گدھا یا کتا نہیں بن سکتا..وہ مسلمان جو کاروبار کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں وہ انعام اور غنم کی طرف ضرور توجہ فرمائیں..خصوصاً قرآن مجید کی وہ آیات ضرور پڑھیں جو ”انعام“ کے بارے میں ہیں اور ان احادیث مبارکہ کو پڑھیں جو ان جانوروں کے بارے میں ہیں..حتی کہ بعض صحابہ کرام تو اپنے مہمانوں کو غنم پالنے کی ترغیب کے ساتھ رخصت فرماتے تھے..آپ تھوڑی سی توجہ کریں گے تو آپ کو اور مسلمانوں کو برکت ملے گی..اور ”انعام“ پر ہالینڈ، اسٹریلیا اور امریکہ کی اجارہ داری ختم ہو گی..اور پھر ”انعام“ کا زیادہ فائدہ وہ پائیں گے جن کے قرآن میں سورہ ”الانعام“ موجود ہے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله