<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو..اپنے پورے دین پر عمل کے لئے..قوت و طاقت عطاء فرمائیں..قرآن مجید میں ”قوت“ کا مضمون بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے..خود لفظ ”قوت“ اپنے مختلف صیغوں کے ساتھ قرآن مجید میں بیالیس (42) بار آیا ہے..سمجھایا گیا کہ..قوت کا مالک اللہ تعالی ہے..اللہ تعالیٰ کی قوت اور قدرت حقیقی ہے..باقی جس کے پاس جو قوت بھی ہے وہ اللہ تعالی کی عطاء فرمودہ ہے..اللہ تعالی قوت عطاء فرمائیں تو اسے صحیح استعمال کرنے والے..بڑے بڑے مقامات پاتے ہیں..یہ سمجھانے کے لئے حضرت موسی علیہ الصلاة والسلام کا قصہ سنایا گیا..حضرت طالوت رضی اللہ عنہ کا واقعہ سنایا گیا..حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے کارنامے سنائے گئے..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور جہاد کے قصے بیان فرمائے گئے..حمراء الاسد کے غازیوں کا حال سنایا گیا..مگر اللہ تعالی کسی کو قوت دیں..اور وہ اس کا غلط استعمال کرے تو اس کا انجام بہت خراب اور خوفناک ہوتا ہے..اس کے لئے فرعون کا تذکرہ بار بار سنایا گیا..قوم عاد کا قصہ بیان ہوا..قارون، ھامان اور ثمود کے واقعات بیان ہوئے..ایک مسلمان منافق..کیوں ہوتا ہے؟بتایا گیا کہ وہ کافروں کی قوت اور ترقی دیکھ کر..دب جاتا ہے، جھک جاتا ہے اور کفار کے دامن تلے آنے میں اپنی عزت اور بقا سمجھتا ہے..اس کے لئے قرآن مجید نے جگہ جگہ..اللہ تعالی کی قوت کا تذکرہ اٹھایا ہے..تاکہ ایمان والے کبھی بھی..غیر اللہ کی عارضی اور فانی قوت سے مرعوب نہ ہوں..الغرض ”قوت“ کا موضوع قرآن مجید کے تیس پاروں میں موجود ہے..اور یہ بہت ”میٹھا موضوع“ ہے..اسی سے فیض حاصل کر کے ”مسلمان“ طویل عرصے تک..دنیا کی سب سے ”بڑی طاقت“ رہے ہیں..قرآنی فیض کے دروازے آج کے مسلمانوں کے لئے بھی کھلے ہیں..جو چاہے حاصل کرلے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله