مکتوب خادم
سَیِّدُ الشُّہَدَاءِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِب
السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..
اللہ تعالی کے ”خاص الخاص“ بندے..حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ
عنہ..تمام شہداء کرام کے ”سَیِّد“ اور ”بادشاہ“..
حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب سگے چچا..ساتھ
ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی..اور عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے
صرف دو سال بڑے..کنیت ”ابو عمارہ“ اور ”ابو یعلی“..اس امت کے فرعون ابوجہل کو زخمی
کر کے اسلام میں داخل ہوئے..بہادروں کے بہادر..حتی کہ ”بہادری“ آپ پر فخر کرتی ہے..اور
تا قیامت کرتی رہے گی..حسن و جمال کے پیکر..شہ سوار، تیر انداز، تلوار باز..اور پہلوانی
کے ماہر..غزوہ بدر کے دن دونوں ہاتھوں میں تلواریں لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
لڑ رہے تھے..
مورخین نے مشرکین کے ان بہادروں کی فہرست بنائی ہے جو ”بدر“
کے دن..حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے..عرب کا جانا مانا بہادر
”شیبہ“ تو ایک منٹ آپ کے سامنے نہ ٹک سکا..اسلام کے پہلے ”علمبردار“..اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے خاص ”وزیر“ اور ”مشیر“..غزوہ احد میں جس طرف رخ فرماتے..لاشوں کے ڈھیر
لگا دیتے..بعض روایات کے مطابق شہادت سے پہلے اکتیس مشرکین کو واصل جہنم فرمایا..اللہ
تعالیٰ کو ”شہداء کرام“ سے پیار ہے..ایسا پیار کہ انمیں سے کئی سے اللہ تعالیٰ بغیر
حجاب کے بات فرماتے ہیں..شہداء کرام کے اس پیارے، عظیم اور محترم قافلے کو اپنا ”امیر“
بھی شاندار چاہیے تھے..ایسا ”امیر“ جو اللہ تعالیٰ کے پیارے شہداء کا واقعی ”امیر“
کہلا سکے..سیدنا حمزہ پر نظر انتخاب پڑی..ہاں اُن کے ہوتے ہوئے اور کون اس عظیم منصب
کا حقدار بن سکتا تھا..
شہداء کرام کو مبارک!..ان کو عظمتوں، محبتوں اور نسبتوں سے
مالا مال ”امیر“ ملا..جس کی قیادت میں وہ قیامت کے دن الگ شان سے کھڑے ہوں گے..یا اللہ
آپ جانتے ہیں..ہم حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے کتنی محبت رکھتے ہیں..تو پھر ”یا
ارحم الراحمین“ کرم فرما دیجئے..
(گزارش)
کل کے مکتوب میں ”ورضوا عنہ“ کو ”عنھم“ لکھا چل گیا تھا جو بعد میں درست کرکے چلایا
گیا..
والسلام
خادم....لااله الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ