مکتوب خادم

 صدقہ فطر واجب ہے

السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..

اللہ تعالیٰ ہمیں تمام فرائض، واجبات اور سنن..ایمان اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..”صدقہ فطر“ بھی واجب ہے..اپنی طرف سے بھی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی..ہر ”صاحب نصاب“ مسلمان پر ”عیدالفطر“ کی ”صبح صادق“ طلوع ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے..جنہوں نے گزشتہ سالوں کا نہ دیا ہو ان پر وہ ادا کرنا بھی واجب ہے..اور جو وقت سے پہلے ادا کردے اس کا ادا کرنا بھی درست ہے، جیسا کہ اس سال کا آج کل ادا کر دینا..صدقہ فطر اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنا چاہیے..مثلاً جن کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مال عطاء فرمایا ہے..وہ کشمش یا کھجور کے حساب سے ادا کریں..جن کے پاس زیادہ مال نہیں وہ گندم کے حساب سے اور جو متوسط ہیں وہ جو کے حساب سے ادا کریں..بیوی کا صدقہ فطر اس کا خاوند بھی ادا کرسکتا ہے..اس سال مارکیٹ کے حساب سے صدقہ فطر کی مقدار درج ذیل ہے..

(1) گندم کے حساب سے فی کس 150 روپے..

(2) جو کے حساب سے فی کس 425 روپے..

(3) کھجور کے حساب سے فی کس 1050 روپے..

(4) کشمش کے حساب سے فی کس 2275 روپے..

دل کی خوشی، اخلاص اور جذبہ احسان کے ساتھ ”عید الفطر“ کی نماز سے پہلے پہلے اپنا یہ واجب ادا کردیں..وہ مسلمان جو غریب ہیں اور نصاب کے مالک نہیں ہیں ان پر ”صدقہ فطر“ واجب نہیں ہے..

گزارش..صدقہ فطر کی مذکورہ بالا مقدار کراچی کے علماء کرام نے تیار کی ہے..ہمارے جامعۃ الصابر بھاولپور کی طرف سے بھی ایک ”مقدار نامہ“ جاری کیا گیا ہے..وہ بھی معتبر ہے..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ