<مکتوب خادم>

مھم شریف..الوداع

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے:-

”مَاشَاءَاللّٰہُ کَانَ وَ مَالَمْ یشَآء لَمْ یَکُنْ“

اللہ تعالی اپنے بندوں پر فضل فرما کر انہیں نیکی کی توفیق دیتے ہیں..اور رحم فرما کر گناہوں سے بچاتے ہیں:-

”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ العَلِیِّ  الْعَظِيم“

بھلائی کے کاموں کی توفیق..اللہ تعالی کی نعمت سے ہوتی ہے..اور اس پر شکر واجب ہے:-

”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ“

اللہ تعالی کی ”مشیت“ اور ”قوت“ سے ہی بندوں کے کام بنتے ہیں:-

”مَا شَاء اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ“

اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کے لئے کفایت فرمانے والے وکیل و کفیل ہیں:-

”حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا“

اللہ تعالی نے عظیم احسان فرمایا..تعمیر مساجد مہم میں لگایا..ایسی فکر نصیب فرمائی جو خیر ہی خیر تھی..ایسے کام میں لگایا جو خیر ہی خیر تھا..اس عظیم احسان اور فضل پر دل اور سر اللہ تعالی کے شکر میں..اللہ تعالی کے سامنے جھکے ہوئے ہیں..

”اَللّٰهُمَّ لَكَ الحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ.. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ

آج ہر شخص کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے..ایسے حالات میں اچھے کام اور اچھے عمل کی فکر نصیب ہو جانا..اللہ تعالی کا فضل ہے..ہم اس کی ٹھیک طرح سے قدر نہ کر سکے اسی لئے مکمل ہدف تک نہ پہنچ سکے..اپنی کوتاہی پر اپنے مالک سے معافی چاہتے ہیں..

”رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُـوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِىٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ“

مگر جتنا کچھ ہوگیا..یہ بھی ہماری حیثیت اور مقام سے بہت بڑھ کر ہے..کہاں ہم اور کہاں مساجد..کہاں ہم اور کہاں اللہ تعالی کے گھر..ہم جیسے بے نام، غریب، مسکین، عاجز، کمزور افراد..اور ماشاءاللہ ڈیڑھ ماہ میں انیس، بیس مساجد کا انتظام..شکر کا حق کیسے ادا کریں!

”سُبْحَانَ اللّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّهِ الْعَظِيم“

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس مہم میں..کسی بھی طرح سے شرکت کرنے والے ہر مسلمان کو..درجہ بدرجہ اپنی شان عالیشان کے مطابق عالیشان جزائے خیر عطاء فرمائیں..

”اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی وَلَھُم وَلَھُن اَللّٰھُمَّ ارحَمنِی وارحَمْھُم وارحَمْھُن“

مُہم کے آخری لمحات میں خود کو اور آپ سب کو نصیحت ہے کہ..دین سے رشتہ مضبوط تر کریں..پورے دین کو ماننے والی جماعت کو نعمت سمجھیں..اللہ تعالی کے دین کے غلبے کی محنت دن رات کریں..کسی کی زمین پر..یا سرکاری زمین پر ایک بالشت یا ایک چپہ برابر ناجائز قبضہ نہ کریں..اجتماعی اموال اور امانتوں میں بھرپور امانت داری نبھائیں..کلمہ طیبہ سے پکی یاری لگائیں..نماز کو زندگی کا سب سے اہم کام سمجھیں..جہاد فی سبیل اللہ سے وفادار رہیں..خود کو کبھی ذکر اللہ سے غافل نہ ہونے دیں..اللہ تعالی سے رو رو کر ہدایت، تقوی، پاکیزگی اور معافی مانگا کریں..حُسن خاتمہ کی ہمیشہ فکر رکھیں..اور اللہ تعالی کی مساجد سے جڑے رہیں..مہم کے جانے پر دل اداس ہے..پیاری مہم شریف..وقتی طور پر..الوداع..

اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا محمد  وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا..

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ..وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ