<مکتوب خادم>

اہل محبت کو یاد رکھیں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے جسے بھی ”زندگی“ عطاء فرمائی ہے..اسے ”موت“ بھی ضرور عطاء فرماتا ہے..جس طرح ”زندگی“ ایک ”حقیقت“ ہے..اسی طرح ”موت“ بھی ایک ”حقیقت“ ہے..سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ”موت“ خاتمہ نہیں ہے..بلکہ ایک اور جہان اور مرحلے کا ”آغاز“ ہے..اگر موت خاتمہ ہوتا تو پھر بار بار عذاب قبر سے حفاظت کی دعاء کیوں مانگی جاتی ہے؟..بعض ائمہ کے نزدیک تو ہر نماز کے آخری قعدے کے آخری حصے میں ”عذاب قبر“ سے پناہ مانگنا واجب ہے..معلوم ہوا کہ بڑا اہم معاملہ ہے اور بلکل یقینی ہے..اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ میری اور آپ کی ”قبر“ کہاں بنے گی؟..اور اس قبر کے اندر کا ماحول کیا ہوگا؟..

اہل ایمان اپنی قبر کی بہت فکر رکھتے ہیں..دنیا کے ذاتی گھر اور یہاں کی رہائش سے زیادہ..قبر کو بہتر بنانے کا سوچتے ہیں..یہاں والا گھر تو دوسروں کو مل جائے گا..جب کہ ”قبر“ میں قیامت تک رہنا ہے..اور قبر میں عذاب بھی ہے اور رحمت بھی..آگ بھی ہے اور نعمت بھی..ذلت بھی ہے اور عزت بھی..تنگی بھی ہے اور فراخی بھی..قبر ایک پورا جہان ہے..ہمارے اس جہان سے بڑا..اللہ تعالی ہمیں توفیق عطاء فرمائیں کہ ہم..اپنی قبر کے لئے بھرپور تیاری کرکے جائیں..اور ایسے اعمال، کردار، اخلاق اور خدمات چھوڑ جائیں کہ..قبر میں بھی..ان کا نفع پہنچتا رہے..پھر ایمان کی برکت سے..مسلمانوں کو مرنے کے بعد.. دوسرے مسلمانوں کے ”ایصال ثواب“ سے بھی فائدہ پہنچتا ہے..مگر ایصال ثواب کا مسئلہ کافی تفصیل طلب ہے..کون سا عمل اور ثواب میت کو پہنچتا ہے اور کونسا نہیں؟..ایصال ثواب کس طرح کرنا چاہیے؟ایصال ثواب کی جائز صورتیں کون سی ہیں؟..اور ناجائز طریقے کونسے سے؟..

کوشش رہے گی ”ان شاءاللہ“ کہ..اس موضوع کا کچھ خلاصہ ”مکتوبات“ میں آجائے..آج صرف اتنا سمجھ لیں کہ..مالی صدقہ اور خیرات وہ عمل ہے..جس کا ایصال ثواب..سب سے زیادہ مفید ہے..اور اس کے جائز اور مفید ہونے پر امت کا اتفاق ہے..اللہ تعالی ہم سب کو..اپنے وفات پا جانے والے محبوبین کے لئے اس کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطاء فرمائیں..اور ہمارے مرنے کے بعد ہمارے بعد والوں کو.. ہمارے لئے اس عمل کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطاء فرمائیں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ