<مکتوب
خادم>
دائمی آزادی کا
سفر
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی
سے..اللہ تعالی کی رضا اور ”جنت الفردوس الاعلی“ کا سؤال ہے..اللہ تعالی نے ہمیں..پیدا
فرمایا..ہماری ”روح“ ایک ایسے ”جہان“ میں رکھی جو بہت دور ہے..اس جہان کا نام ہے
”عالم ارواح“ یعنی روحوں کا جہان..پھر اپنے وقت پر اللہ تعالی نے ہمارے لئے ایک
جسم بنایا..یہ جسم جب روح کو اٹھانے کے قابل ہوا تو ماں کے رحم میں..ہماری روح کو
ہمارے جسم میں ڈال دیا گیا..اور ساتھ تاریخ بھی دے دی گئی کہ..اس تاریخ تک یہ روح
اس جسم میں رہے گی..انسان بھی عجیب مسافر ہے..عجیب قیدی ہے..ایک سفر سے دوسرا سفر
اور ایک قید سے دوسری قید..ایک طرف یہی انسان زمین کی ساری مخلوق کا سردار اور
حاکم..اور دوسری طرف یہی انسان..کمزور، بے بس اور ضعیف ترین مخلوق..
روح سفر کرتی ہے
وہ ”عالم ارواح“ سے..جسم میں آتی ہے..پھر موت کے وقت وہ ایک اور جہان میں چلی جاتی
ہے جس کا نام ”عالم برزخ“ ہے..مگر اب روح اور جسم میں تعلق کسی نہ کسی طرح قائم
رہتا ہے..کیونکہ ہمارے اسی جسم نے دوبارہ بننا ہے..ہماری انہی ہڈیوں نے دوبارہ بنایا
جانا ہے..اور پھر اسی جسم میں روح نے قیامت کے دن واپس آنا ہے..اس دوران روح پر کیا
گزری..جسم پر کیا گزری..یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو سنا بھی نہیں پائیں گے کہ قیامت
کا ہولناک اور خوفناک دن شروع ہو جائے گا..اندازہ لگائیں مثال کے طور پر پاکستان
کے 23 کروڑ افراد ایک میدان میں جمع ہوں..کیا حالت ہوگی؟ وہاں تو کھربوں انسان ایک
میدان میں جمع ہوں گے اور سورج سر کے بالکل اوپر چند ہاتھ کے فاصلے پر ہوگا..
پھر جن کو جنت
مل گئی..ان کی روح بھی کامیاب اور جسم بھی کامیاب..اور جو جہنم میں گئے..ان کی روح
بھی قید اور ناکام اور جسم بھی ناکام..اور جو ”اعراف“ میں لٹکے رہے..ان کا بھی
مشکل حال..
بس بھائیو! اور
بہنو! وقت تھوڑا ہے..روح کو بھی جنت کے قابل بنانا ہے..اور جسم کو بھی..اور ان
دونوں میں سے کسی کو بھی گناہ اور غفلت میں نہیں ڈبونا..رمضان کے آخری عشرے میں..جہنم
سے پناہ مانگی جائے تاکہ مسافر اور قیدی انسان کا اختتام..شاندار اور دائمی آزادی
پر ہو..
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ