<مکتوب
خادم>
معمولی بات نہیں
ہے
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی ہمیں
اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائیں....
کل کے مکتوب کا
آخری جملہ اس طرح کرلیں..
تاکہ مسافر اور
قیدی انسان کے سفر کا اختتام..شاندار اور دائمی آزادی پر ہو..
ہر انسان سفر میں
ہے..اور ایک مؤمن کو چاہیے کہ دنیا میں ایک مسافر اور ایک قیدی کی طرح زندگی
گزارے..اللہ تعالی کے احکامات کی پابند زندگی..شیطان اسی کوشش میں لگا رہتا ہے
کہ..انسان کو آزاد زندگی پر لے آئے..وہ آزاد زندگی جس کے بعد قید ہی قید ہے..عذاب
ہی عذاب ہے..جب کہ دین کی پابند زندگی کے بعد..آزادی ہی آزادی ہے اور عیش ہی عیش
ہے..قبروں والے اس راز کو سمجھ چکے..کاش ہم قبر میں جانے سے پہلے ہی سمجھ لیں..اگر
کوئی مسلمان چاہتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی..اس کا نامۂ اعمال بھاری، وزنی اور
روشن ہوتا رہے تو وہ تین کاموں پر محنت کرے..
(1)
اولاد کی اچھی دینی تربیت..اولاد کے نیک اعمال والدین کے نامۂ اعمال میں بھی جگہ
پاتے ہیں..
(2)
دین کے علم سے مضبوط تعلق جوڑے..علم سیکھے، علم سکھائے..علم پھیلائے اور علم کی
خدمت کرے..اس عمل کا اجروثواب صدیوں تک چلتا ہے..
(3)
صدقہ جاریہ کی حرص رکھے..یعنی بخل اور دل کی تنگی سے نکل کر..اپنے مال کے ذریعہ ایسے
کام کرے..جن کی خیر جاری رہے مثلاً جہاد میں مال لگانا..مسجد بنانا وغیرہ..اور جو
مسلمان چاہتا ہو کہ..اس کے مرنے کے بعد اس کے اعمال اس کی زندگی سے بھی زیادہ
ہوں..وہ اپنے نفس کی خواہشات قربان کرے اور دین کے لئے ایسی محنت کرے کہ اس کی
محنت، مشقت اور ریاضت پر اللہ تعالی کو پیار آجائے..
اور جو مسلمان
چاہتا ہو کہ..زندگی، موت اور حساب کتاب کے عمومی قانون سے نکل کر..اللہ تعالی کے
فضل والے خاص قانون میں آجائے تو وہ سچے دل سے شہادت کی دعاء اور تمنا کرے اور
شہادت کے راستے کو اختیار کرے..تب اس پر جو موت آئے گی وہ بھی زندگی ہوگی..تب وہ
مر کر بھی نہیں مرے گا..اور ایسا اکرام پائے گا کہ جنت میں جا کر بھی واپس آکر
دوبارہ شہادت کا وہی اکرام چاہے گا..اور اسے حساب نہیں دینا پڑے گا بلکہ وہ..حساب
وصول کرے گا..
ہاں بھائی..اللہ
تعالی کے لشکر میں آکر کھڑا ہو جانا..کوئی معمولی بات نہیں ہے..
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ