<مکتوب
خادم>
محبت سے لبریز
تحفہ
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی نے
اپنے محبوب ترین نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دعاء سکھائی..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
پھر حضرت آقا
محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبوب ترین ہستی حضرت ام المؤمنین سیدہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ دعاء سکھا دی..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
پھر ایمان والوں
کی محبوب ترین، شفیق امی جان نے ایمان والوں کو یہ دعاء پہنچا دی..شفیق ماں کا تحفہ..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
اندازہ لگائیں
کہ اس دعاء میں کتنی محبت اور محبوبیت بھری ہوئی ہے..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
مہینوں میں سب
سے محبوب مہینے رمضان المبارک..پھر اس کے محبوب ترین حصے یعنی آخری عشرے..اور پھر
اس کے بھی محبوب ترین حصے یعنی طاق راتیں..اور پھر سب سے محبوب رات..لیلۃ
القدر..جب محبوب ترین فرشتے حضرت سیدنا جبرئیل علیہ الصلاۃ و السلام اپنے روحانی
لشکر کے ساتھ..ہمارے درمیان ہوتے ہیں..اس رات کے محبوب ترین عمل یعنی نماز کے
محبوب ترین حصے یعنی سجدے میں آنسوؤں کے ساتھ
اگر یہ دعاء مانگی جائے تو کیا مقام ہوگا؟
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
یا اللہ آپ معاف
فرمانے والے ہیں..بہت زیادہ معاف فرمانے والے..آپ ”معافی“ کو پسند فرماتے ہیں..پس
مجھے معاف فرما دیجئے..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
اللہ اکبر..معافی
مل گئی..وہ بھی اپنے عظیم رب سے تو پھر..سارے مسئلے حل..دین کے بھی..دنیا کے بھی..قبر
کے بھی، آخرت کے بھی..جسم کے بھی، روح کے بھی..انفرادی بھی..اجتماعی بھی..دراصل
ہمارا ہر معاملہ بگڑا ہوا ہے..ایسی دو رکعت بھی کسی کسی کے نامۂ اعمال میں ہوگی..جس
میں تکبیر تحریمہ سے سلام تک توجہ کامل اللہ تعالی کی طرف ہو..تو پھر ”معافی“ کے
سوا کیا چارہ ہے؟..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
دعاؤں میں الفاظ
کا اضافہ جائز ہے..مگر معلوم نہیں کیوں اس دعاء میں تھوڑا سا اضافہ بھی مجھ حقیر
بندے کے دل کو چبھتا ہے..خالص موتی..خالص سونا..خالص دودھ..اتنی عظیم نسبتوں کے
ساتھ موجود ہے تو اسی سے فائدہ اٹھائیں..سب سے مضبوط سند والے الفاظ کو مضبوط پکڑیں
اور سینکڑوں بار ان کا ورد کریں..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی“
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ