<مکتوب
خادم>
بوسیدہ جسموں پر
رحمت و راحت داخل فرمائیے
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی نے
”موت“ کو ”مؤمن“ کے لئے تحفہ بنایا ہے..اور ”قبر“ کو اس کے لئے جنت کا باغ......
کتنا عالیشان
باغ؟ ہماری سوچ اور ہمارے وہم و گمان سے بھی زیادہ عالی شان..
حضرت حسن بصری
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ..جو قبروں پر جا کر یہ دعاء پڑھے گا..اس کے لئے حضرت سیدنا
آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے لے کر قیامت تک مرنے والے افراد کی تعداد میں نیکیاں
لکھی جائیں گی..یعنی اربوں کھربوں سے بھی زیادہ نیکیاں..دعاء یہ ہے:
”اَللّٰهمَّ
رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِيَةِ وَالْأَجْسَادِ الْبَالِيَةِ وَالْعِظَامِ
النَّخِرَةِ الَّتِيْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْيَا وَهِيَ بِكَ مُؤْمِنَةٌ أَدْخِلْ
عَلَيْهِمْ رَوْحًا مِّنْكَ وَسَلَاماً مِّنِّيْ“..
ترجمہ: ”یا
اللہ! فانی ارواح، بوسیدہ اجسام اور پرانی ہڈیوں والوں کے رب! انمیں جو دنیا سے آپ
پر ایمان کی حالت میں گیا..ان پر اپنی طرف سے راحت و رحمت داخل فرمائیے..اور میری
طرف سے ان پر سلام اتارئیے..
حضرت حسن بصری
رحمہ اللہ تعالی کا یہ اثر ”مصنف بن ابی شیبہ“ اور بعض دیگر کتب میں موجود
ہے..ماشاءاللہ بہت جامع، بہت نافع اور بہت وجد آفرین دعاء ہے..اس کے الفاظ پر غور
کریں تو علم کے کئی باب کھلتے ہیں..اسی دعاء پر مشتمل ایک مرفوع روایت..حضرت سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے..اس کی سند ضعیف ہے..مگر حضرت حسن
بصری رحمہ اللہ تعالی کا اثر اس کی تقویت کا ثبوت ہے..واللہ اعلم بالصواب..
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ