<مکتوب
خادم>
یوم
الفرقان....فیصلے کا دن (۱)
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی نے
”غزوہ بدر“ کے دن کو ”یوم الفرقان“ قرار دیا ہے..حق اور باطل میں امتیاز اور فیصلے
کا دن..حق اور باطل کی پہچان کا دن..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ”بارہ رمضان
المبارک“ 2ھ مدینہ منورہ سے..روانہ ہوئے..تین سو تیرہ مجاہدین عالی مقام آپ کے
ساتھ تھے..ارادہ تھا کہ..قریش کے تجارتی قافلے
پر حملہ کریں گے..اور موذی دشمن کی جابرانہ، ظالمانہ معیشت کو چوٹ پہنچائیں
گے..مگر عرش پر فیصلہ کچھ اور تھا..اسی فیصلے کے تحت اللہ تعالی نے تکوینی طور پر
تجارتی قافلے کو بچا کر نکال دیا..اور صنادید قریش کے مسلح ،طاقتور لشکر کو
مسلمانوں کے سامنے لا کھڑا کیا..قرآن مجید اس کی وجہ یہ بیان فرماتا ہے کہ..اللہ
تعالی نے اپنے تین فیصلوں کو آج نافذ فرمانا تھا:-
(1)
احقاق حق (2) ابطال باطل (3) قطع دابر الکافرین..
یعنی حق کا حق
ہونا سب کی آنکھوں کے سامنے ثابت ہو جائے..باطل کا باطل ہونا سب کو نظر آجائے..اور
کافروں کی جڑ کٹ جائے..
چنانچہ مقابلہ
ہوا..فرشتے اترے..شیاطین نے زور لگایا..ایک لشکر میں نور ہی نور تھا..حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم..اور سیدنا جبریل علیہ الصلاۃ والسلام..جب کہ دوسرے لشکر میں
ظلمت ہی ظلمت تھی..ابوجہل..اور ابلیس ملعون..ایک طرف طاقت تھی، تجربہ تھا، اسلحہ
تھا، غرور تھا اور فتح کے بے شمار اسباب..جبکہ دوسری طرف ایمان تھا..اخلاص
تھا..سرفروشی اور فداکاری تھی..مگر نہ تعداد نہ تیاری..جنگ سے پہلے کی آخری رات عجیب
تھی..اس رات کی دعاؤں اور آہ وزاری نے..قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے فتوحات کے
دروازے کھلوا دئیے..جنگ سے پہلے مقابلہ یکطرفہ تھا..کوئی ایک ظاہری سبب بھی..مسلمانوں
کی فتح کا موجود نہیں تھا..مگر جب تلواروں نے میان چھوڑے اور سرفروشوں نے دنیا کی
ہر خواہش دل سے نکال کر..تکبیر کا نعرہ بلند کیا تو..پھر اسباب بھی ان کے ساتھ
آکھڑے ہوئے..
(باقی
اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ)
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ