<مکتوب
خادم>
دو تاریخ ساز
تقریریں
السلام علیکم
ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ تعالی ہماری
طرف سے..اور ساری امت کی طرف سے..اُن دو حضرات کو بہترین جزائے خیر عطاء
فرمائے..جن دونوں کی والہانہ خطابت نے حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
دل مبارک کو خوشی اور سرور سے بھر دیا..ان دو عظیم المرتبت افراد میں سے ایک ہیں..
حضرت سیدنا
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ..اور دوسرے ہیں حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ
عنہ..غزوہ بدر میں جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ.. تجارتی قافلہ نکل گیا ہے اور قریش
کا لشکر سامنے آرہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانثار صحابہ کرام سے
مشورہ لیا..اس موقع پر اسلامی لشکر کے لئے مدینہ منورہ واپسی آسان تھی..مشرکین کے
لشکر سے لڑنے کی نہ ان کے پاس تیاری تھی اور نہ وہ اس سوچ سے نکلے تھے..مگر حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ”جہاد“ کا عزم فرما چکے تھے..اس موقع پر جب آپ نے
حضرات صحابہ کرام سے رائے لی تو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی
اللہ عنہما نے سب سے پہلے اطاعت اور جانثاری کے عزم کا اعلان فرمایا..اور پھر حضرت
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے..اور ایسا خطاب فرمایا کہ زمین و
آسمان بھی جھوم اٹھے..انہوں نے فرمایا!..
یا رسول اللہ!
آپ کو اللہ تعالی نے جس چیز کا حکم فرمایا ہے، آپ اسے پورا فرمائیں، ہم سب آپ کے
ساتھ ہیں..اللہ کی قسم ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ ہرگز نہیں کہیں گے کہ اے موسی! تم
اور تمہارا رب جا کر لڑو،ہم تو یہیں بیٹھے ہیں..بلکہ ہم کہیں گے یا رسول اللہ! آپ
اور آپ کا رب قتال فرمائے، ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر جہاد و قتال کریں گے..یا رسول
اللہ! ہم آپ کے دائیں، بائیں اور آگے پیچھے ہر طرف دشمن سے لڑیں گے..
حضرت سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں..یہ الفاظ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا..مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات انصار کے جذبات
معلوم فرمانا چاہتے تھے..تب انصار کے سردار حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ
کھڑے ہوئے..اور ایسا فصیح و بلیغ، والہانہ اور جانثارانہ خطاب فرمایا کہ..تا قیامت
یہ خطاب انصار کے سر کا تاج بن کر..چمکتا رہے گا..اس مبارک خطاب کے چند الفاظ یہ
بھی ہیں!..
یا رسول اللہ!
ہم ہر حال میں آپ کے ساتھ ہیں..ہمارے اموال میں سے جتنا چاہیں آپ قبول فرمائیں..اور
جتنا چاہیں ہمیں عطاء فرمائیں..جو آپ قبول فرمائیں گے وہ ہمارے لئے اس سے زیادہ
محبوب ہو گا جو آپ ہمارے لئے چھوڑ دیں گے..آپ اگر ہمیں ”برک الغماد“ جانے کا حکم دیں
گے تو ضرور ہم آپ کے ساتھ جائیں گے..قسم اس اللہ کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے
اگر آپ ہم کو سمندر میں کود جانے کا حکم دیں گے تو ہم اسی وقت سمندر میں کود پڑیں
گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا..ہم دشمنوں سے لڑنے کو نا پسند نہیں
کرتے بلکہ ہم لڑائی میں ڈٹ جانے والے اور مقابلہ کے سچے ہیں..اللہ تعالی سے امید
ہے کہ اللہ تعالی ہم سے آپ کو وہ چیز دکھائے گا..جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی..پس
آپ اللہ تعالی کے نام کی برکت سے ہمیں میدان میں لے چلیں..
والسلام
خادم....لااله
الااللہ محمد رسول اللہ