<مکتوب خادم>

مقابلہ مبارک!

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں ”غزوہ بدر“ ”غازیان بدر“ اور شہداء بدر کے ساتھ ”نسبت“ نصیب فرمائیں..

غزوہ بدر ایمان اور عشق کی سچی داستان ہے..غزوہ بدر دارین میں اونچی کامیابی کا نصاب ہے..غزوہ بدر اسلام کے غلبے کا راز ہے..

(1) غزوہ بدر اول تا آخر ”اقدامی جہاد“ تھا..اول یوں کہ مسلمان خود قریش کے تجارتی قافلے پر حملے کے لئے نکلے..اور آخر یوں کہ قریش کے لشکر کا ”بدر“ میں جشن منا کر واپسی کا ارادہ تھا..مگر اسلامی لشکر ان سے مقابلے کے لئے وہاں پہنچ گیا..اس لئے جو بھی اسلام کے ”اقدامی جہاد“ کو نہیں مانے گا وہ ہمیشہ..”اسلامی عزت“ اور غزوہ بدر کی نسبت سے دور رہے گا..

(2) غزوہ بدر میں ”احقاق حق“ ہوا..”ابطال باطل“ ہوا..چنانچہ جب تک مسلمان دین اسلام کی خاطر جان کی قربانی پیش نہیں کرتے..اور میدان جہاد میں نہیں اترتے اس وقت تک..حق کا حق ہونا..اور باطل کا باطل ہونا دنیا پر ظاہر نہیں ہوتا..آج مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہے مال، افراد، حکومتیں، فوجیں اور اسلحہ..مگر دین اسلام پر جان دینے اور میدان جہاد میں اترنے کا جذبہ عمومی طور پر موجود نہیں تو آج نعوذباللہ اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں سب سے  پسماندہ اور تیسرے درجے کی قوم سمجھا جاتا ہے..اے مسلمانو! اللہ کے لئے شرعی جہاد کی طرف لوٹ آؤ..

(3) غزوہ بدر 17 رمضان کو ہوا..یہ حجامہ کا بھی دن ہے..عرب کے معاشرے میں کفر ہی کفر تھا..غزوہ بدر میں جہاد والا حجامہ ہوا..صرف ستر کپ لگے اور پورا جزیرہ عرب کفر کی غلامی سے نکلنے کے قابل ہوگیا..جہاد میں بہت کم خون بہتا ہے..اور بہت زیادہ امن قائم ہوتا ہے..

دین کے دیوانوں کو..غزوہ بدر سے نسبت..اور اس دن کا شاندار مقابلہ مبارک ہو..تیمرگرہ، لاہور اور مردان نے عالی شان جذبات کا اظہار کرکے بہت سی دعاؤں کو سمیٹ لیا ہے..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ