<مکتوب خادم>

مَحَبَّت اور وفا

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی مغفرت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ہمارے وہ بزرگ، احباب، رفقاء اور جانباز..جو آج ہم میں نہیں ہیں..اللہ اکبر کیسے کیسے منور چہرے اور معطر شخصیات آنکھوں کے سامنے آرہی ہیں..

”اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّھم“

بائیس سال کے اس سفر میں ان کا بڑا حصہ ہے..وہ اکابر و مشائخ جنہوں نے بنیاد رکھی اور سرپرستی فرمائی..اتنے عالی مقام ہونے کے باوجود جماعت کی بیعت میں شامل ہوئے اور ان میں سے کئی نے ”شہادت عظمٰی“ پائی..اور وہ بزرگ جنہوں نے اس محنت میں جوانوں کو پیچھے چھوڑ دیا..اور وہ جانباز سرفروش جنہوں نے اپنی شجاعت اور قربانی سے دنیا کے کفر کو لرزا کر رکھ دیا..اور وہ داعی جن کی دعوت اس محنت میں خون کی طرح دوڑتی تھی..اور وہ بے چین فاتحین جنہوں نے کفر و شرک کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے..اپنی قبروں اور جنازوں تک کی قربانی دی..ان سب نے یہ سب کچھ..اللہ وحدہ لاشریک لہ کی محبت میں کیا..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں کیا..اور دین اسلام کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لئے کیا..اور پھر وہ اپنے اپنے عاشقانہ انداز میں اللہ تعالی کے پاس چلے گئے..

”اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّھم“

راہ عزیمت کے اس مشکل سفر میں..یہ شہداء کرام اور مرحومین ہمیشہ یاد رہتے ہیں..یہ پوری امت کے محسن ہیں..ان کی گرم روحانی یادیں..الحمدللہ ہر مشکل لمحے..اور ہر پھسلنے والے مقام پر..اللہ تعالی کے فضل سے ہمارے لئے سہارا بن جاتی ہیں..بات ادھوری رہ جائے گی اگر ان معزز خواتین کا تذکرہ نہ ہو..جنہوں نے جذبہ ایمان میں اس قافلے کی بےحد نصرت فرمائی..انہوں نے دین کی سربلندی کے لئے اپنے بیٹے، بھائی اور خاوند نچھاور کئے..انہوں نے اپنے قیمتی زیورات سے ہر کار خیر میں حصہ ڈالا..انہوں نے اپنی دعاؤں سے ہمیشہ سہارا دیا..جماعت کا نظام..حیا اور عفت کا نظام ہے الحمدللہ..اسی نظام میں رہتے ہوئے ان خواتین نے جماعت اور اس کے کام سے سچی محبت اور وفا کا ثبوت دیا..اور ان میں سے کئی تو ایسی بھی تھیں کہ..ان کا مرنا جینا سب اسی کام کے لئے وقف تھا..وہ جماعت کی ادنی مخالفت نہ سن سکتی تھیں..نہ برداشت کر سکتی تھیں..اسی غیرتمند قافلے کی ایک رکن..جو دین اور جماعت کی نسبت سے..حضرت ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے چھوٹی بہو بنیں..آج رمضان المبارک کی ستائیسویں شب..اللہ تعالی کے حضور پیش ہو گئیں..

”اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّھن“

دو روزہ ”مقابلہ وفا“ انہی حضرات و خواتین کے ایصال ثواب کے لئے ہے..جان لگا کر محنت کریں..اور اخلاص کے ساتھ ”ایصال ثواب“ کریں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ