بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مسجد
اقصیٰ شریف
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته....
اللہ
تعالی ہمیں ”مسجد اقصیٰ“ میں نماز ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں.......
”مسجد
اقصیٰ“ بہت مبارک مقام ہے......قران و سنت میں اس ”مسجد“ کے بہت عجیب اور دلکش
فضائل وارد ہوئے ہیں....یہ زمین پر اللہ تعالی کا دوسرا گھر ہے جس کی تعمیر کعبہ
شریف کے چالیس سال بعد ہوئی.....حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد اقصی“ کے
فتح ہونے کی بشارت اہل اسلام کو ارشاد فرمائی......اور اسی مسجد میں تمام انبیاء
علیہم الصلٰوۃ والسلام کی امامت فرمائی.....یہ ”سیارہ زمین“ پر تیسرا مقدس ترین
مقام ہے....پہلا کعبہ شریف، دوسرا مسجد نبوی شریف اور تیسرا مسجد اقصیٰ شریف....یہ
مسجد کئی بار آباد ہوئی اور کئی بار ویران کی گئی......اسے حضرت سلیمان علیہ
الصلٰوۃ والسلام نے بھی تعمیر فرمایا....اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے کامل
مغفرت کی دعاء فرمائی......
یہ
مسجد ان چار مقامات میں سے ہے جہاں ”دجال“ داخل نہیں ہو سکے گا.....یہ مسجد بلند
روحانی مقام رکھتی ہے......یہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی اجتماع
گاہ.....اور معراج میں عرش کی طرف روانگی کا مرکز ہے......حضرت ام المؤمنین سیدہ میمونہ
رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا......یا رسول اللہ ہمیں ”بیت
المقدس“ کے بارے میں ارشاد فرمائیے......آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا....یہ
”حشر“ اور ”نشر“ کا مقام ہے (یعنی قیامت کے دن سب کو اس جگہ جمع کیا جائے گا) تم
لوگ اس مسجد میں جاؤ اور اس میں نماز ادا کرو......بے شک اس میں ایک نماز دوسرے
مقامات کی نماز سے ایک ہزار گنا افضل ہے.......حضرت ام المؤمنین نے عرض کیا.....اگر
میں وہاں تک نہ جا سکوں تو کیا کروں؟....آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
تم اس مسجد کے چراغوں کے لئے تیل بھیج دینا......پس جو یہ بھی کر لے گا تو وہ اس میں
حاضر ہونے والوں جیسا ہو جائے گا (ابو داؤد، احمد)
”طوفان
الاقصیٰ“ کا جہاد ”مسجد اقصیٰ“ کے لئے ہے......کفار نے اس جہاد کو ”عالمی صہیونی
صلیبی جنگ“ بنا دیا ہے......اب اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ بھی منہ توڑ جواب دیں......اور
اسے خالص ”اسلامی مدنی عالمی جہاد“ سمجھ کر اس میں جیسے بھی ہو سکے حصہ لیں......”مسجد
اقصیٰ“ کے آج کے چراغ.......اقصیٰ کے مجاہدین اور شہداء ہیں.....آگے بڑھیں اور ان
کے شعلوں کو مضبوط کریں......
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله