بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مسجدِ
اقصیٰ کے سپاہی
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالی نے ”مسجد اقصیٰ“ اور اس کے آس پاس کی زمین کو ”مبارک“ اور ”بابرکت“ بنایا
ہے....
اللہ
تعالی نے ”یہودیوں“ کو ذلیل اور ”ملعون“ قرار دیا ہے.....”ملعون یہودی“......ہم
مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ”ارض مبارک“.....اور ”مقدس سرزمین“ پر قابض
ہو گئے....اس قبضہ کے دوران انہوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کا قتل عام کیا......1948ء
میں فلسطینی مسلمانوں پر ”یہودیوں“ نے جو مظالم ڈھائے ان کو پڑھنا بھی بہت مشکل
ہے.....حالانکہ اس وقت نہ ”حماس“ موجود تھی....اور نہ فلسطینی لڑ رہے
تھے......پچھتر سال کے اس قبضے میں......انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے
قاتل.....اللہ تعالی کے دشمن.....ملعون یہودیوں نے کئی بار مسلمانوں کا قتل عام کیا.....اور
حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر کے ان کے بچوں تک کو ذبح کیا....مگر ربیع الاول ۱۴۴۵ھ.....اکتوبر 2023ء کا مہینہ.....
آسمان سے نئے فیصلے لایا ہے....پچھتر سال میں پہلی بار جنگ....دشمن کے زیر قبضہ
علاقوں میں لڑی جا رہی ہے....اور ابھی تک نہایت کامیاب جا رہی ہے......”طوفان
الاقصیٰ“ نے یہودیوں کا وہ جادو توڑ دیا ہے....جس جادو کے زور پر یہودی ساری دنیا
کو اپنے قدموں پر جھکاتے جا رہے تھے.....طوفان اقصیٰ کا عذاب یہودیوں پر اس وقت
نازل ہوا......جب امریکہ....انڈیا کے سمندری راستے سے اسرائیل کے ساتھ.....یورپ تک
ایک ”کوریڈور“ بنانے کا منصوبہ بنا چکا تھا......وہ منصوبہ اب سمندر میں غرق ہو گیا.....
دوسری طرف کئی عرب ممالک ”اسرائیل“ کو تسلیم کرنے والے تھے......جو اب اپنے اقدام
سے پیچھے ہٹ کر اسرائیل کی مذمت پر مجبور ہیں.....”مسجد اقصی“ وہ جگہ ہے جہاں”دجال“
بھی داخل نہیں ہو سکے گا.....دجال تو ایران کی طرف سے آئے گا......اور اس کے ساتھ
جو ستر ہزار یہودی ہوں گے وہ بھی سب ایرانی ہوں گے......ایران میں اب بھی یہودی
موجود ہیں اور انہیں باقاعدہ ایک قانونی اقلیت تسلیم کیا گیا ہے......اور ان کے
لئے پارلیمنٹ میں کچھ سیٹیں بھی مختص ہیں.......
مسجد
اقصیٰ......بیت المقدس...القدس اور اس کے آس پاس کے علاقے اسلام کے تشریف لانے کے
بعد.......کسی کافر کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرتے......حتی کہ دجال بھی اسی
علاقے میں پہنچ کر (مقام لُدّ پر) مارا جائے گا......
”طوفان
الاقصیٰ“ کا موجودہ حملہ اتنا خطرناک اور مؤثر تھا کہ......امریکی صدر اور وزیر
خارجہ کو ”تل ابیب“ آنا پڑا تاکہ یہودیوں کو حوصلہ دے سکیں.....وہاں امریکی وزیر
خارجہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ....میں ایک امریکی نہیں....بلکہ اسرائیلی شہری ہوں
اور پورا امریکہ یہودیوں کے ساتھ کھڑا ہے.....اللہ کرے.....ہر مسلمان بھی دل سے یہی
کہہ دے کہ.....میں فلسطینی ہوں......میں حماس کا مجاہد ہوں......اور میں مسجد اقصی
کا سپاہی ہوں....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله