بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
معصوم بچوں کے قاتل کی سزا
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی تمام اسلامی ممالک کو
”مؤمن، مسلمان حکمران“ نصیب فرمائیں......
”مؤمن، مسلمان حکمران“ موجود ہوتے تو
”غزہ“ کے ایک ایک بچے کے خون کا پورا حساب ”یہودیوں“ سے وصول کرلیتے....
صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ:-
ایک یہودی نے ایک انصاری مسلمان کی
بچی کو.....اس کا زیور لوٹنے کے لئے شہید کر دیا، پھر اسے کنویں میں پھینک دیا اور
اس کا سر پتھر سے کچل دیا....اس قاتل یہودی کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا....آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے
پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے......چنانچہ اس موذی، بدخصلت قاتل کو.....پتھروں
سے مار مار کر ختم کر دیا گیا (صحیح مسلم حدیث 1672)
آج بھی یہودی ویسا ہی ہے جیسا کہ کل
تھا......مال کا لالچی.....بے رحم قاتل.....بچوں کو قتل کرنے اور بمباری سے ان کا
سر کچلنے والا.......یعنی بد فطرت، بدخصلت اور سنگ دل.... چھوٹے معصوم بچوں پر تو
جانوروں کو بھی رحم آجاتا ہے....بے شمار واقعات ہیں کہ.....زہریلے سانپ بچوں کے
ساتھ بیٹھے رہے.....مگر ان کو نقصان نہیں پہنچایا.....مگر یہودی تو سانپ سے بھی
بدتر ہے.....حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ”رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ“ ہیں.....اور
اسی ”رحمت“ کا تقاضا تھا کہ دنیا اور زمین کو ایسے سنگدل موذی قاتلوں سے پاک کیا
جائے......اور دوسروں کے لئے بھی عبرت چھوڑی جائے.....چنانچہ اس قاتل کو ”رجم“
فرمانے کا حکم دیا.....
کاش آج کے مسلمان حکمران.....جو
قیامت کے دن حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے محتاج ہوں گے....غزہ کے
بچوں کے قاتلوں پر.....اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والی سزا جاری کریں....
والسلام
خادم.....لااله الاالله محمد رسول
الله