بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بشارتیں

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں”دین“ پر ”ثابت قدمی“ نصیب فرمائیں....حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:-

میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ دین پر قائم رہے گی وہ اپنے دشمنوں کے لئے ”قہر“ ہوگی....ان کے مخالف ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے ان تکلیفوں کے جو انہیں (دشمنوں سے) پہنچیں گی....یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے....صحابہ کرام نے عرض کیا! یا رسول اللہ! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا....بیت المقدس اور بیت المقدس کے اطراف میں (مسند احمد)......

یہ مجاہدین اقصیٰ کے لئے ایک اور فضیلت اور بشارت ہے....بیت المقدس کے جہاد اور رباط کے فضائل الگ شان والے ہیں....اسی لئے حضرات صحابہ کرام کی سب سے زیادہ قبور اسی علاقے میں ہیں.....ایک فلسطینی عالم اپنے تازہ بیان میں فرما رہے تھے کہ....حالیہ جہاد کے دوران ایک خاتون کو مفصل بشارت ہوئی.....انہوں نے پوچھا کہ نصرت کب آئے گی؟ فرمایا گیا کہ.....”شہادت“ اللہ تعالی کی ”نصرت“ ہے.....پوچھا دشمنوں پر کامیابی کب ملے گی؟ تب ایک عجیب لشکر دکھایا گیا کہ وہ آئے گا اور دشمنوں کو ہلاک کرے گا....ہاں بے شک! ”شہادت“ بہت عظیم نصرت ہے....اور اللہ تعالی کے خاص بندوں کو ملتی ہے.... اللہ تعالی ”اہل کفر“ پر ”فتح“ بھی نصیب فرمائیں....فتح سے پہلے قربانی لگتی ہے....

(2) آج حجاز میں سترہ ربیع الثانی ہے.....جبکہ ہمارے ہاں کل ہوگی....جہاد میں مضبوطی کی نیت سے اچھی طرح ”حجامہ“ کرا کے چست و جوان ہو جائیں.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله